Chapter 2

خطرناک سایہ

جیسے ہی کبوتر سکون پاتا ہے، اسے درخت کے نیچے ایک شکاری کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے۔ شکاری کی نظریں کبوتر پر جم جاتی ہیں، اور ہوا میں خطرے کی بو پھیل جاتی ہے۔

6 min read

رات کا اندھیرا چھٹ رہا تھا اور مشرق سے سورج کی زرد کرنیں جنگل کے گھنے درختوں میں سے چھن چھن کر آ رہی تھیں۔ ہوا میں نمی اور مٹی کی خوشبو رچی بسی تھی۔ کئی میل کا سفر طے کر کے ایک تھکا ہوا کبوتر، جس کے پر سفر کی صعوبتوں سے گرد آلود ہو چکے تھے، ایک بہت بڑے اور پرانے درخت کی شاخ پر آ بیٹھا۔ یہ جنگل اس کے لیے بالکل نیا تھا۔ اس نے اپنے ننھے سے دل میں ایک گہری سانس لی، اس امید پر کہ یہاں کچھ دیر آرام کر سکے گا، اپنی تھکاوٹ اتار سکے گا اور پھر اپنے اہم سفر کو جاری رکھ سکے گا۔

درخت کی شاخیں اتنی مضبوط تھیں کہ وہ آسانی سے ان پر بیٹھ گیا، اس کی آنکھیں آس پاس کے ماحول کا جائزہ لے رہی تھیں۔ یہ جنگل خوبصورت تھا، ہر طرف سبزے کے مختلف رنگ، پھولوں کی مہک اور پرندوں کی چہچہاہٹ۔ اس نے اپنی گردن کو ہلایا، اپنے پروں کو سمیٹا۔ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد، اس نے درخت کے تنا کے قریب زمین پر کچھ سرگرمی محسوس کی۔

اس کی تیز نگاہیں فوراً اس طرف متوجہ ہوئیں۔ درخت کے موٹے تنے کے نیچے، جھاڑیوں میں چھپا ہوا، ایک انسان بیٹھا تھا۔ اس نے ایک پرانا سا چمڑے کا لباس پہنا ہوا تھا اور اس کے ہاتھ میں ایک لمبا سا تیر کمان تھا۔ کبوتر نے فوراً پہچان لیا کہ یہ ایک شکاری ہے۔ شکاری کی آنکھیں اس پر ہی جمی ہوئی تھیں۔ اگرچہ فاصلہ زیادہ تھا، مگر کبوتر کو محسوس ہو رہا تھا کہ شکاری کی نظریں اس کے ہر حرکت کو ناپ رہی ہیں۔

ایک لمحے کے لیے، جنگل کی ساری خوبصورتی اور سکون جیسے ختم ہو گئے۔ ہوا میں ایک ناگہانی خوف اور خطرے کی بو پھیل گئی۔ کبوتر کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ وہ سمجھ گیا کہ وہ اب محفوظ نہیں رہا۔ یہ شکاری اس کا شکار کر سکتا ہے۔ اس کی جان خطرے میں تھی۔ اس کے اندر سے ایک آواز آئی، "فوراً یہاں سے نکلو!"

اس نے اپنے نرم پنجوں کو شاخ پر مضبوطی سے جما لیا۔ اس کی آنکھیں شکاری پر گڑی ہوئی تھیں، وہ اس کی اگلی حرکت کا انتظار کر رہا تھا۔ شکاری بھی بہت چالاک نظر آ رہا تھا۔ وہ بالکل خاموش بیٹھا تھا، گویا پتھر کا بنا ہو، لیکن اس کی آنکھوں میں ایک وحشیانہ چمک تھی۔ کبوتر نے دیکھا کہ شکاری نے آہستہ آہستہ اپنا تیر کمان اٹھایا اور تیر کو کمان پر چڑھانے لگا۔

یہ لمحہ بہت نازک تھا۔ اگر وہ ذرا سی بھی دیر کرتا، تو شاید یہ تیر اس کے پروں کو چیرتا ہوا نکل جاتا۔ اس نے اپنے چھوٹے سے دماغ میں ہزاروں خیالات دوڑائے۔ یہ شکاری بہت چالاک تھا، اسے آسانی سے دھوکہ نہیں دیا جا سکتا تھا۔ مگر کبوتر بھی کوئی عام کبوتر نہیں تھا۔ وہ دور دراز کے ملکوں سے آیا تھا، اس نے بہت سے سفر کیے تھے اور بہت سے خطرات کا سامنا کیا تھا۔ اس کے پاس پیغام پہنچانے کا ایک اہم راز تھا، اور اس راز کو بچانا اس کی زندگی سے زیادہ ضروری تھا۔

شکاری نے جیسے ہی تیر کو کمان پر چڑھایا، کبوتر نے فوراً قدم اٹھایا۔ وہ ایک دم سے اڑا۔ اس نے اتنی تیزی سے پر مارے کہ درخت کی شاخ سے کچھ پتے جھڑ گئے۔ اس کے اڑتے ہی شکاری نے تیزی سے کمان کھینچی اور تیر چھوڑ دیا۔ تیر ہوا میں سرسراتا ہوا کبوتر کی طرف بڑھا، مگر کبوتر نے عین وقت پر اپنی سمت بدل لی۔ وہ تیزی سے دائیں طرف مڑا اور درخت کی گھنی شاخوں میں گھس گیا۔

تیر درخت کی موٹی شاخ سے ٹکرا کر زور کی آواز کے ساتھ ٹوٹ گیا۔ شکاری غصے سے چیخا۔ اس نے سوچا تھا کہ کبوتر آسانی سے اس کے جال میں پھنس جائے گا۔ مگر کبوتر کی ہوشیاری نے اسے حیران کر دیا تھا۔

کبوتر اب درخت کی شاخوں کے اندر گہرائی میں اڑ رہا تھا۔ اس کے پر اب بھی تھکے ہوئے تھے، مگر اس کی جان بچ گئی تھی۔ وہ ایک لمحے کے لیے رکا، اس نے اپنے دل کی دھڑکن کو قابو کرنے کی کوشش کی۔ شکاری کی غصے بھری آواز ابھی بھی اس کے کانوں میں گونج رہی تھی۔ اس نے دیکھا کہ شکاری درخت کے نیچے سے اٹھ گیا ہے اور اس کی طرف دیکھ رہا ہے۔ شکاری نے اپنا دوسرا تیر کمان پر چڑھایا۔

کبوتر نے فوراً سمجھ لیا کہ درخت کے اندر رہنا بھی محفوظ نہیں ہے۔ شکاری اسے دیکھ سکتا تھا، اور اگر وہ وہیں رہا تو پھر سے اس کا نشانہ بن سکتا تھا۔ اسے جلدی سے جلدی یہاں سے نکلنا ہوگا۔

اس نے درخت کی شاخوں کے جال سے باہر نکلنے کا راستہ ڈھونڈنا شروع کیا۔ اس کی آنکھیں تیزی سے ادھر ادھر گھوم رہی تھیں۔ شکاری ابھی بھی اسے دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا، مگر درخت کی گھنی شاخیں اور پتے اس کے لیے رکاوٹ بن رہے تھے۔

اچانک، کبوتر کو ایک راستہ نظر آیا۔ درخت کی ایک شاخ دوسری طرف جھکی ہوئی تھی اور اس کے پیچھے ایک اور درخت تھا۔ اگر وہ اس دوسری طرف نکل گیا، تو شاید شکاری اسے آسانی سے دیکھ نہ پائے۔

اس نے پوری طاقت سے پر مارے اور درخت کی شاخوں کو چیرتا ہوا اس طرف بڑھا جہاں اسے راستہ نظر آیا تھا۔ جیسے ہی وہ نکلنے والا تھا، اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ شکاری نے پھر سے تیر چلایا تھا۔ مگر اس بار کبوتر درخت کی شاخوں سے نکل کر ہوا میں بلند ہو چکا تھا۔ تیر اس کے پیچھے سے گزر گیا۔

وہ اب درخت سے کافی دور نکل آیا تھا۔ اس نے تیزی سے اپنی سمت بدلی اور جنگل کے گہرے حصے کی طرف اڑ گیا۔ اس کے دل میں ابھی بھی ڈر تھا، مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک عجیب سی خوشی بھی تھی۔ اس نے اپنی جان بچا لی تھی۔ وہ سمجھدار تھا، اور اس کی سمجھداری نے اسے آج ایک بڑے خطرے سے بچا لیا تھا۔

وہ اڑتا رہا، جنگل کے اوپر سے۔ سورج کی روشنی اب تیز ہو چکی تھی۔ اس نے نیچے جنگل کو دیکھا۔ ہر طرف درخت ہی درخت تھے۔ اسے معلوم تھا کہ شکاری اس کا پیچھا کرنے کی کوشش ضرور کرے گا۔ مگر اب وہ شکاری کی پہنچ سے دور نکل آیا تھا۔

اس نے اپنی پرواز جاری رکھی، پرندوں کے ساتھ مل کر۔ اس کے پاس جو راز تھا، وہ بہت اہم تھا۔ اسے وہ راز صحیح ہاتھوں تک پہنچانا تھا۔ یہ شکاری صرف ایک رکاوٹ تھا، ایک خطرناک سایہ جو اسے کچھ دیر کے لیے ڈرا گیا۔ مگر وہ اس سے کہیں زیادہ طاقتور تھا، کیونکہ اس کے پاس علم تھا، اور علم ہی سب سے بڑی طاقت ہے۔

وہ اڑتا رہا، اس امید پر کہ اسے جلد ہی کوئی محفوظ پناہ گاہ مل جائے گی، جہاں وہ کچھ دیر آرام کر سکے اور پھر اپنے سفر کو جاری رکھ سکے۔ جنگل ابھی بھی خوبصورت تھا، مگر اب اس خوبصورتی میں ایک نیا رنگ نظر آ رہا تھا۔ یہ رنگ تھا خطرے کا، جدوجہد کا، اور زندہ رہنے کی امنگ کا۔ اس نے ایک گہری سانس لی اور پرواز کو تیز کر دیا۔ اس کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔

✦ ✦ ✦