Chapter 3

بچ نکلنے کی چال

کبوتر فوری طور پر خطرے کو بھانپ لیتا ہے۔ شکاری کے وار کرنے سے پہلے، وہ اپنی سمجھداری اور تیزی سے اڑان بھرتا ہے، شکاری کی چالاکی کو ناکام بناتا ہے۔

8 min read

بہت دور سے اڑتا ہوا، تھکا ماندہ کبوتر جب اس خوبصورت جنگل میں اترا تو اس کے پروں میں وہ جان باقی نہ رہی تھی جو اسے یہاں تک لائی تھی۔ ہواؤں کے بے رحم تھپیڑوں اور میلوں کے سفر نے اس کی طاقت نچوڑ لی تھی۔ وہ ایک اونچے، گھنے درخت کی شاخ پر جا بیٹھا، اس کی نگاہیں ارد گرد کے ماحول کا جائزہ لے رہی تھیں۔ درخت کی شاخیں اس کے لیے کسی سنہری آرام گاہ سے کم نہ تھیں، جہاں وہ کچھ لمحے سکھ کا سانس لے سکے۔

اس نے اپنی آنکھیں بند کیں، ہوا کی سرسراہٹ اور پرندوں کی چہچہاہٹ میں اسے سکون محسوس ہوا۔ لیکن یہ سکون زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔ اچانک، اس کی آنکھیں کھلی اور اس کی نظریں درخت کے نیچے پڑی ایک سرگرمی پر مرتکز ہو گئیں۔ وہاں، درخت کے تنے کے قریب، ایک شکاری بیٹھا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک لمبا سا تیر کمان تھا، اور اس کی آنکھیں آس پاس کے ماحول کو بڑی بے چینی سے تلاش کر رہی تھیں۔ شکاری کی موجودگی نے کبوتر کے دل میں خوف کی ایک لہر دوڑا دی۔ اسے فوراً اندازہ ہو گیا کہ یہ جگہ اس کے لیے محفوظ نہیں۔

شکاری کی چالاک اور تیز نگاہیں جنگل کے ہر کونے پر لگی تھیں۔ وہ اپنی خوراک کے انتظار میں خاموشی سے بیٹھا تھا، اس کی سانسیں بھی بہت دھیمی تھیں۔ کبوتر نے محسوس کیا کہ اگر وہ ذرا سی بھی حرکت کرتا ہے، تو شکاری کی نظر اس پر پڑ جائے گی اور پھر اس کی جان خطرے میں پڑ جائے گی۔ اس نے اپنی گردن کو آہستہ سے ہلایا، اپنے پروں کو سمیٹا اور اڑان بھرنے کے لیے خود کو تیار کیا۔ اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی تھی، اور اس کا دماغ تیزی سے کام کر رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اگر وہ شکاری کو موقع دے گا تو وہ اسے اپنا نشانہ بنا لے گا۔

اسی لمحے، شکاری کی نظر کبوتر پر پڑ گئی۔ جیسے ہی شکاری نے کبوتر کو دیکھا، اس کی آنکھوں میں ایک چمک سی آ گئی۔ اس نے کبوتر کو اپنی خوراک سمجھ لیا تھا۔ اس نے فوراً اپنا کمان اٹھایا، تیر کو کمان پر چڑھایا اور کبوتر کو نشانہ بنانے لگا۔

کبوتر نے شکاری کی حرکت کو بھانپ لیا۔ اس نے اپنی ساری طاقت جمع کی اور شکاری کے وار کرنے سے فوراً پہلے، ایک تیز اور اچانک چھلانگ لگائی۔ اس کے پروں نے تیزی سے ہوا کو کاٹا اور وہ درخت کی شاخ سے ہوا میں بلند ہو گیا۔ شکاری نے فوراً تیر چلا دیا، لیکن کبوتر اس وقت تک ہوا میں کافی اوپر جا چکا تھا کہ تیر اس کے پاس سے گزر گیا۔

شکاری نے کبوتر کو ہوا میں اڑتے دیکھا تو اس کے چہرے پر مایوسی چھا گئی۔ اس نے جلدی سے اپنی کمان کو نیچے کیا اور کبوتر کی طرف بڑھنے لگا، اس امید میں کہ شاید کبوتر قریب میں کہیں اترے۔ وہ کبوتر کا پیچھا کرنے کے لیے تیار ہو گیا۔

کبوتر نے شکاری کو اپنے پیچھے آتے دیکھا تو اس کے دل میں خوف پیدا ہو گیا۔ وہ جانتا تھا کہ شکاری بہت چالاک ہے اور اس کا پیچھا ضرور کرے گا۔ اس نے اپنی پرواز کی سمت بدل دی، تیزی سے درختوں کے جھنڈ میں گھس گیا۔ درختوں کے پتے اور شاخیں اس کے لیے ایک قدرتی ڈھال بن گئیں۔ شکاری بھی اس کے پیچھے بھاگ رہا تھا، لیکن درختوں کی کثرت کی وجہ سے اسے کبوتر کو دیکھنے میں دشواری ہو رہی تھی۔

کبوتر اپنی سمجھداری اور تیزی سے شکاری کو چکما دے رہا تھا۔ وہ کبھی دائیں مڑتا، کبھی بائیں، کبھی اونچا اڑتا، کبھی نیچا۔ وہ شکاری کو الجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ شکاری، جو اپنی چالاکی پر ناز کرتا تھا، کبوتر کی اس تیزی اور سمجھداری کے سامنے حیران رہ گیا۔ وہ اس کبوتر کو پکڑنے کے لیے اپنی پوری طاقت لگا رہا تھا، لیکن کبوتر اس کے ہاتھ نہیں آ رہا تھا۔

جنگل کی خاموشی میں شکاری کے قدموں کی آہٹ اور کبوتر کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ ہی سنائی دے رہی تھی۔ کبوتر کو اپنی جان بچانے کے لیے بہت محتاط رہنا پڑ رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اگر وہ ایک لمحے کے لیے بھی غافل ہوا تو شکاری اسے دبوچ لے گا۔ اس کی آنکھیں ہر طرف دیکھ رہی تھیں، اور اس کا دماغ مسلسل نئے راستے تلاش کر رہا تھا۔

شکاری، جو اب تک کبوتر کے پیچھے بھاگ رہا تھا، تھکنے لگا تھا۔ اس کی سانسیں پھول رہی تھیں، اور اس کے پاؤں بھاری ہو رہے تھے۔ لیکن اس کی لالچ اسے پیچھے ہٹنے نہیں دے رہی تھی۔ وہ کبوتر کو کسی بھی صورت میں چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔

کبوتر نے دیکھا کہ شکاری اب کچھ سست ہو گیا ہے۔ اس نے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ اس نے ایک ایسی سمت میں اڑان بھری جہاں درخت بہت زیادہ گھنے تھے اور زمین پر پتھر اور کانٹے تھے۔ شکاری کے لیے اس سمت میں جانا مشکل تھا۔

جیسے ہی کبوتر گھنے جنگل میں داخل ہوا، اس نے ایک بہت بڑے، پرانے درخت کو دیکھا۔ اس درخت کی شاخیں بہت پھیلی ہوئی تھیں اور اس پر بہت سارے پتے تھے۔ کبوتر کو لگا کہ یہ اس کے لیے ایک بہترین پناہ گاہ ہو سکتی ہے۔ اس نے تیزی سے اڑان بھری اور اس بڑے درخت کی سب سے اونچی شاخ پر جا بیٹھا۔ وہاں سے وہ نیچے شکاری کو دیکھ سکتا تھا۔

شکاری، جو اب بھی کبوتر کا پیچھا کر رہا تھا، گھنے جنگل میں پھنس گیا۔ پتھروں اور کانٹوں کی وجہ سے اسے چلنے میں دشواری ہو رہی تھی۔ اس کے کپڑے پھٹ گئے تھے، اور اس کے پاؤں زخمی ہو گئے تھے۔ وہ غصے سے بڑبڑا رہا تھا۔ اس نے کبوتر کو اس بڑے درخت پر بیٹھے دیکھا تو اس کا غصہ اور بڑھ گیا۔

شکاری نے درخت کے نیچے کھڑے ہو کر کبوتر کو للکارا۔ "اے کبوتر! کہاں چھپنے کی کوشش کر رہے ہو؟ میں تمھیں چھوڑوں گا نہیں۔"

کبوتر نے شکاری کی آواز سنی، لیکن اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ وہ جانتا تھا کہ شکاری سے بات کرنا بیکار ہے۔ اسے یہاں سے نکلنا ہوگا۔

اس نے نیچے دیکھا۔ شکاری اب بھی وہیں کھڑا تھا، غصے سے کبوتر کو دیکھ رہا تھا۔ کبوتر نے سوچا کہ اب اسے کچھ اور کرنا ہوگا۔ اس نے دیکھا کہ درخت کے تنے کے قریب کچھ پرانے، سوکھے پتے پڑے تھے۔ اس نے ایک خیال کے تحت، اپنے پروں کو زور سے پھڑپھڑایا اور کچھ سوکھے پتے نیچے گرا دیے۔

شکاری نے جب نیچے پڑے ہوئے پتوں کو دیکھا تو وہ کبوتر کو سمجھنے میں ناکام رہا۔ اس نے سوچا کہ شاید کبوتر ان پتوں میں چھپنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ جلدی سے ان پتوں کی طرف بڑھا، یہ دیکھنے کے لیے کہ کیا وہاں کچھ ہے۔

جیسے ہی شکاری پتوں کے قریب پہنچا، کبوتر نے ایک اور چال چلی۔ اس نے اپنے پروں کو زور سے پھڑپھڑایا اور ایک تیز آواز نکالی۔ شکاری نے جب وہ آواز سنی تو وہ چونک گیا۔ اسے لگا جیسے کوئی اور جانور قریب میں ہے۔ شکاری، جو ویسے بھی جنگل کے جانوروں سے ڈرتا تھا، اس آواز سے خوفزدہ ہو گیا۔

اس خوف کے عالم میں، شکاری نے کبوتر کو وہیں چھوڑ دیا اور فوراً پیچھے مڑ کر بھاگ گیا۔ وہ جنگل سے باہر نکلنا چاہتا تھا۔ اس نے پیچھے مڑ کر بھی نہیں دیکھا کہ کبوتر کہاں ہے۔

کبوتر نے جب دیکھا کہ شکاری بھاگ گیا ہے تو اسے تھوڑی راحت ملی۔ لیکن وہ جانتا تھا کہ ابھی وہ مکمل طور پر محفوظ نہیں ہے۔ شکاری شاید دوبارہ آ سکتا ہے۔ اس نے اس بڑے درخت کی شاخ پر بیٹھ کر کچھ دیر آرام کیا۔ اس نے اپنے پروں کو صاف کیا اور اپنے زخمی جسم کو سنبھالا۔

اس نے اس درخت کی طرف دیکھا جس پر وہ بیٹھا تھا۔ یہ درخت بہت پرانا اور مضبوط لگ رہا تھا۔ اس کی شاخیں مضبوط تھیں اور پتے گھنے تھے۔ اسے محسوس ہوا کہ یہ درخت اس کی حفاظت کر رہا ہے۔ اس نے دل ہی دل میں اس درخت کا شکریہ ادا کیا۔

کبوتر نے جب دیکھا کہ شکاری اب نظر نہیں آ رہا، تو اس نے اڑان بھرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ اس جنگل سے دور جانا چاہتا تھا، جہاں کوئی شکاری نہ ہو۔ اس نے اپنے پروں کو پھیلا کر ایک لمبی اڑان بھری اور آسمان کی طرف بلند ہو گیا۔ وہ اس جنگل سے نکل کر ایک نئی منزل کی طرف روانہ ہو گیا۔ اس کی سمجھداری اور تیزی نے اسے ایک بڑے خطرے سے بچا لیا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کا سفر ابھی جاری ہے، اور اسے مزید کئی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لیکن اس نے سیکھ لیا تھا کہ سمجھداری اور بہادری سے کسی بھی مشکل کا سامنا کیا جا سکتا ہے۔ وہ اڑتا رہا، آسمان کی وسعتوں میں گم ہوتا ہوا، ایک نئی صبح کی تلاش میں۔

✦ ✦ ✦