Chapter 1

اجنبی پرندہ

ایک تھکا ہوا کبوتر دور دراز کے سفر سے ایک پراسرار جنگل میں آن پہنچتا ہے۔ وہ ایک قدیم اور بلند درخت کی شاخ پر آرام کرنے کے لیے بیٹھ جاتا ہے۔

6 min read

ایک گہرا، پراسرار جنگل، جہاں سورج کی کرنیں بھی چھن کر زمین تک پہنچنے میں ہچکچاتی تھیں، ایک تھکا ہوا کبوتر اپنی پرواز کو سست کرتا ہوا داخل ہوا۔ اس کے پر تھکاوٹ سے جھکے ہوئے تھے، اور اس کی آنکھوں میں ایک لمبی، دشوار گزار سفر کی تھکن صاف نظر آ رہی تھی۔ بہت دور سے، شاید زمین کے دوسرے کونے سے، وہ یہاں تک پہنچا تھا۔ اس کے ننھے سے دل میں ایک اضطراب تھا، ایک بے چینی جو اسے مسلسل آگے بڑھنے پر مجبور کر رہی تھی۔

جنگل کی فضا میں ایک عجیب سی تازگی اور نمی تھی۔ ہر طرف سبزے کے گہرے رنگ، مختلف قسم کے درختوں کے تناور تنے، اور ان پر پھیلی ہوئی بیلیں ایک منفرد منظر بنا رہی تھیں۔ ہوا میں پھولوں اور مٹی کی ملی جلی خوشبو رچی ہوئی تھی، جو کبوتر کو ایک لمحے کے لیے سکون بخش گئی۔ اس نے اپنی نظریں اوپر اٹھائیں، گھنے پتوں کے درمیان سے جھانکتے آسمان کو دیکھا، اور پھر نیچے جنگل کی گہرائیوں میں جھانکا۔ ہر چیز اتنی خاموش اور پرسکون تھی، جیسے یہ دنیا اس کے لیے ہی بنائی گئی ہو۔

کبوتر نے اپنی نظریں ایک بڑے، بلند درخت پر مرکوز کیں۔ اس کا تنا اتنا موٹا تھا کہ شاید دس آدمی بھی اسے اپنی بانہوں میں نہ سمیٹ سکتے۔ اس کی شاخیں آسمان کی طرف اس طرح پھیلی ہوئی تھیں جیسے کوئی دیو اپنی انگلیاں پھیلائے۔ یہ درخت بہت پرانا اور مضبوط نظر آ رہا تھا، اور اس کی شاخوں پر بڑی بڑی پتوں کی چادریں پھیلی ہوئی تھیں، جو ایک قدرتی چھت کی مانند تھیں۔ کبوتر کو لگا کہ یہ اس کے تھکے ہوئے جسم اور پریشان روح کے لیے بہترین پناہ گاہ ثابت ہوگا۔

دل میں ایک اطمینان کی لہر کے ساتھ، اس نے اپنی آخری کچھ طاقتیں سمیٹیں اور اس درخت کی ایک موٹی، افقی شاخ پر جا بیٹھا۔ شاخ قدرے نرم تھی، اور اس کی گرفت مضبوط تھی۔ یہاں سے وہ پورے جنگل کا ایک اچھا خاصا نظارہ کر سکتا تھا۔ اس نے اپنے پر سمیٹے، اپنی گردن کو تھوڑا پیچھے کیا، اور آنکھیں بند کر کے گہری سانس لی۔ سفر کی تھکاوٹ اب اس پر حاوی ہو رہی تھی۔ اس نے سوچا کہ تھوڑی دیر آرام کر لے، پھر دیکھے گا کہ آگے کیا کرنا ہے۔

جیسے ہی اس نے اپنی آنکھیں بند کیں، اسے اپنی پچھلی زندگی کے کچھ منظر یاد آئے۔ وہ کہاں سے چلا تھا؟ کیوں چلا تھا؟ اس کے پاس کوئی واضح جواب نہیں تھا۔ بس ایک احساس تھا، ایک فرض کا بوجھ جو اسے مسلسل چلنے پر مجبور کر رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ وہ کوئی عام کبوتر نہیں ہے۔ اس کے کندھوں پر ایک پیغام تھا، ایک راز تھا جو بہت اہم تھا۔ یہ راز کس کے لیے تھا، اور اس کا کیا نتیجہ نکلے گا، یہ سب اسے ابھی تک معلوم نہیں تھا۔ بس اتنا پتہ تھا کہ اسے یہ پیغام صحیح ہاتھوں تک پہنچانا ہے۔

کبوتر کی آنکھیں ابھی پوری طرح بند بھی نہیں ہوئی تھیں کہ اسے نیچے سے ایک آواز سنائی دی۔ ایک گہری، خشن آواز، جو اس جنگل کی خاموشی کو توڑ رہی تھی۔ اس نے فوراً اپنی آنکھیں کھولیں اور نیچے دیکھا۔ اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔

درخت کے تنا کے قریب، زمین پر، ایک آدمی بیٹھا تھا۔ اس کی شکل و شباہت کسی عام مسافر جیسی نہیں تھی۔ اس نے گہرے رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے تھے، اور اس کے ہاتھ میں ایک لمبا، بھاری سا چمڑے کا تھیلا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی، جو لالچ اور بے رحمی کا امتزاج لگ رہی تھی۔ وہ چپ چاپ بیٹھا تھا، جیسے کسی چیز کا انتظار کر رہا ہو۔ اس کے چہرے پر ایک گہری سنجیدگی تھی، جو اس کی چالاکی کی غمازی کر رہی تھی۔

کبوتر نے فوراً اندازہ لگا لیا کہ یہ کوئی عام شکاری نہیں ہے۔ اس کی نظریں اس پر گڑی ہوئی تھیں۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ اس کی ہی تلاش میں آیا ہو۔ کبوتر کو اپنی جان کا خطرہ محسوس ہوا۔ اس کی سمجھدار طبیعت نے اسے فوراً خبردار کر دیا تھا۔ یہ جگہ، یہ درخت، یہ آدمی، سب کچھ اس کے لیے ایک جال ہو سکتا تھا۔

اس نے محسوس کیا کہ اس کے جسم میں ایک نئی توانائی دوڑ گئی ہے۔ تھکاوٹ فوراً ہوا ہو گئی۔ اس نے اپنے پر پھیلانے شروع کر دیے، اور جسم کو تھوڑا اوپر اٹھایا۔ اس کی آنکھیں اس شکاری پر گڑی ہوئی تھیں، جو اب اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ شکاری کی آنکھوں میں ایک ہوس تھی، ایک فتح کی امید تھی۔

شکاری نے کبوتر کو اڑنے کی تیاری کرتے دیکھا تو اس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس نے جلدی سے اپنے تھیلے سے کچھ نکالا۔ وہ ایک جال تھا، جو بہت مضبوط نظر آ رہا تھا۔ شکاری نے جال کو بڑی مہارت سے کبوتر کی طرف پھینکا۔

لیکن کبوتر پہلے ہی ہوشیار ہو چکا تھا۔ اس نے شکاری کے جال پھینکنے سے پہلے ہی اپنے پر پھڑپھڑائے اور اوپر کی طرف اڑ گیا۔ جال اس کے قدموں کے نیچے سے گزر گیا اور درخت کی شاخوں میں الجھ گیا۔ کبوتر نے ایک لمبی، بلند پرواز بھری اور جنگل کی گہرائیوں میں غائب ہو گیا۔

شکاری غصے سے چیخا۔ اس نے کبوتر کو اتنی آسانی سے اپنے ہاتھوں سے نکل جانے کا غصہ تھا۔ وہ اٹھا اور درخت کے تنے کے گرد چکر لگانے لگا، جیسے کبوتر کو ڈھونڈ رہا ہو۔ اس کی آنکھوں میں اب لالچ کی جگہ غصے نے لے لی تھی۔

کبوتر، جو اب جنگل کے گھنے درختوں کے اوپر اڑ رہا تھا، پیچھے مڑ کر شکاری کو دیکھا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ صرف آغاز ہے۔ اس جنگل میں اس کا استقبال کسی مہمان کی طرح نہیں، بلکہ ایک شکار کی طرح ہوا ہے۔ اس نے اپنے دل میں عزم کیا کہ وہ اس شکاری کو ہرگز اپنے راز تک نہیں پہنچنے دے گا۔ اس کی سمجھداری اور ہوشیاری ہی اس کی سب سے بڑی ہتھیار تھیں۔

وہ اونچی پرواز بھرتا رہا، درختوں کے اوپر سے گزرتا رہا، اور جنگل کی گہری خاموشی میں گم ہوتا گیا۔ اس کے ننھے سے دل میں ایک خوف تھا، لیکن اس سے زیادہ ایک حوصلہ تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اسے ابھی بہت دور جانا ہے، اور بہت سے خطرات کا سامنا کرنا ہے۔ لیکن وہ بہادر تھا، اور وہ اپنے مشن کو پورا کرنے کے لیے تیار تھا۔

جنگل کی خاموشی میں اب صرف پروں کی پھڑپھڑاہٹ کی آواز سنائی دے رہی تھی، جو ایک اجنبی پرندے کی کہانی کہہ رہی تھی، ایک ایسی کہانی جو ابھی شروع ہوئی تھی۔

✦ ✦ ✦