Chapter 2
محبت کا پہلا اظہار
شاعر اپنی محبت کا اظہار کرنے کی کوشش کرتا ہے، مگر الفاظ ناکام ہو جاتے ہیں یا حالات ساتھ نہیں دیتے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب محبت کی ناکامی کا پہلا سایہ گہرا ہوتا ہے اور دل میں ایک خلش جنم لیتی ہے۔
دل کی گہرائیوں سے اٹھتی صدا، جو اب تک صرف اپنے وجود کی گونج تھی، اب ایک نامعلوم سمت میں سفر کرنے لگی تھی۔ یہ سفر، جس کا آغاز محض ایک احساس تھا، اب ایک منزل کی تلاش میں تھا، ایک ایسی منزل جو شاید کبھی میسر نہ ہو۔ شاعر، جو راتوں کو تنہائی کے صحرا میں بھٹکتا تھا، اب اپنی ذات کے اس اندھیرے میں کسی اجالے کی کرن ڈھونڈ رہا تھا۔ اس کی آنکھیں، جو اب تک ستاروں کی بے نیازی کو تکتی تھیں، اب کسی ایک ستارے پر ٹھہرنے کی آرزو مند تھیں۔
یہ وہ وقت تھا جب دل نے پہلی بار کسی دوسرے دل کی دھڑکن کو محسوس کیا۔ یہ دھڑکن، جو کبھی پاس تھی، کبھی دور، مگر ہمیشہ محسوس ہوتی رہی۔ شاعر نے محسوس کیا کہ اس کی خاموش دنیا میں کسی کی آہٹ گونج اٹھی ہے۔ یہ آہٹ، جو نرم تھی، مگر اتنی گہری کہ اس کے وجود کی بنیادیں ہلا گئی۔ اس نے چاہا کہ اس آہٹ کو الفاظ کا جامہ پہنائے، اسے اپنی آواز دے، اسے اپنی حقیقت بنا لے۔
ایک شام، جب سورج نے اپنی آخری کرنیں بکھیر کر افق میں ڈوبنا شروع کیا، اور فضا میں گہرا، سنہری رنگ پھیل گیا، شاعر نے خود کو اس کے قریب پایا۔ وہ قریب تو تھا، مگر فاصلہ اتنا تھا کہ گویا صدیوں کا سمندر حائل ہو۔ اس کی آنکھوں میں ایک سوال تھا، ایک التجاء تھی، جو ہونٹوں تک آ کر رک گئی۔ الفاظ، جو اس کی ذات کا حصہ تھے، جو اس کی روح کا نغمہ تھے، اب اس کی زبان پر آ کر ٹھہر گئے۔ وہ کہنا چاہتا تھا، "میں تم سے محبت کرتا ہوں،" مگر یہ سادہ سا جملہ، جو اتنی آسانی سے ادا ہو جانا چاہیے تھا، اب پہاڑ بن گیا تھا۔
اس نے گہرا سانس لیا۔ اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی تھی۔ اس کے ہاتھ، جو اب تک بے جان پڑے تھے، اب کانپنے لگے تھے۔ اس نے اپنی نظریں اس کی طرف اٹھائیں۔ وہ وہاں موجود تھی، مگر اس کی موجودگی ایک خواب جیسی تھی۔ اس کی آنکھوں میں وہ گہرائی تھی جو سمندر کو شرما دے، اس کے ہونٹوں پر وہ مسکراہٹ تھی جو موسموں کو بدل دے۔ مگر ان سب کے باوجود، اس کی ذات کے گرد ایک پردہ تھا، ایک راز تھا، جو شاعر کو بے چین کر رہا تھا۔
"میں..." اس نے کہنا شروع کیا، مگر الفاظ اس کے گلے میں پھنس گئے۔ وہ اپنی محبت کا اظہار کرنا چاہتا تھا، مگر یہ اظہار کس طرح کا ہو؟ کیا یہ صرف ایک خواہش تھی، یا ایک حقیقت؟ کیا یہ محض ایک جذبہ تھا، یا ایک ایسا رشتہ جو وقت کی حدود سے ماورا تھا؟
"آپ کچھ کہنا چاہتے تھے؟" اس کی آواز، جو کسی نرم ہوا کے جھونکے کی طرح تھی، اس کے کانوں میں رس گھول گئی۔ مگر اس نرمی میں بھی ایک فاصلہ تھا، ایک بے نیازی تھی، جو شاعر کے دل کو چیر گئی۔
شاعر نے اپنی نظریں جھکا لیں۔ اسے احساس ہوا کہ شاید وہ غلط وقت پر، غلط جگہ پر، غلط بات کہہ رہا تھا۔ حالات، جو ہمیشہ اس کے خلاف سازش کرتے تھے، اب پھر اس کے سامنے دیوار بن کر کھڑے ہو گئے۔ اس نے چاہا کہ وہ اپنے دل کی ساری باتیں کہہ دے، وہ سارا درد، وہ ساری چاہت، جو اس کے اندر جمع ہو چکی تھی۔ مگر الفاظ نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا۔ وہ خاموش ہو گیا۔ ایک ایسی خاموشی جو ہزاروں الفاظ سے زیادہ بھاری تھی۔
اس نے دیکھا کہ وہ مسکرائی، ایک ایسی مسکراہٹ جو محض ہونٹوں پر تھی۔ اس کی آنکھوں میں کوئی جواب نہیں تھا۔ وہ شاید سمجھ ہی نہیں پائی تھی، یا شاید سمجھنا نہیں چاہتی تھی۔ شاعر کو لگا جیسے زمین اس کے پاؤں تلے سے سرک گئی ہو۔ اس کی محبت کا پہلا اظہار، جو اتنی آسانی سے ہو جانا چاہیے تھا، اب ایک ناکامی بن گیا۔ ایک ایسی ناکامی جس کا سایہ اس کے دل پر گہرا ہوتا گیا۔
وہ وہاں سے چلی گئی۔ اس کی جدائی، اس کی بے نیازی، شاعر کے دل میں ایک خلش چھوڑ گئی۔ یہ خلش، جو شروع میں ایک معمولی سی چبھن تھی، اب آہستہ آہستہ درد کی صورت اختیار کرنے لگی۔ اس نے محسوس کیا کہ اس کی محبت، جو ابھی جنم ہی لے رہی تھی، اب مرنا شروع ہو گئی تھی۔
رات گہری ہو گئی۔ چاند آسمان پر طلوع ہوا۔ ستارے اپنی جگہ پر روشن ہو گئے۔ مگر شاعر کی دنیا اندھیر ہو گئی۔ وہ تنہا بیٹھ گیا۔ اس کے ہاتھ میں وہ کاغذ تھا، جس پر اس نے اپنی محبت کے بارے میں کچھ سطریں لکھنے کی کوشش کی تھی۔ مگر اب وہ سطریں اسے بے معنی لگنے لگیں۔ وہ الفاظ، جو کل تک اس کی زندگی کا مقصد تھے، اب اسے صرف کاغذ کا ایک بے جان ٹکڑا محسوس ہو رہے تھے۔
اس نے اپنی انگلیوں سے کاغذ کو سہلایا۔ اس کے دل میں ایک سوال اٹھا: کیا میری محبت صرف میری ہے؟ کیا یہ صرف ایک طرفہ جذبہ ہے؟ کیا میں اس کی زندگی میں کوئی جگہ نہیں رکھتا؟
یہ سوالات، جو اس کے دل میں اٹھ رہے تھے، اب اس کی شاعری کا موضوع بننے والے تھے۔ اس نے محسوس کیا کہ اس کی محبت، جو اب تک ایک خواب تھی، اب ایک تلخ حقیقت میں بدل رہی تھی۔ یہ تلخ حقیقت، جو اسے تنہائی کی طرف دھکیل رہی تھی۔
اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔ چاند کی روشنی اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔ اس نے محسوس کیا کہ وہ چاند کی طرح اکیلا ہے۔ اس کی دنیا میں روشنی تو ہے، مگر وہ روشنی کسی اور کے لیے ہے۔ وہ خود اس روشنی سے محروم ہے۔
اس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ اس نے محسوس کیا کہ اس کے اندر کچھ ٹوٹ گیا ہے۔ وہ ٹوٹا ہوا ٹکڑا، جو اس کے دل کا حصہ تھا، اب اس کی شاعری میں ڈھلنے والا تھا۔ وہ درد، جو اسے محسوس ہو رہا تھا، اب اس کے الفاظ میں زندہ رہنے والا تھا۔
وہ اٹھا اور اپنے کمرے میں چلا گیا۔ اس نے اپنی قلم اٹھائی۔ اس کے ہاتھ میں وہ کاغذ تھا، جس پر اس نے اپنی نامکمل محبت کے بارے میں کچھ لکھنے کی کوشش کی تھی۔ اب اس نے اس کاغذ پر کچھ نئے الفاظ لکھے۔ یہ الفاظ، جو اس کی ناکامی کی گواہی دے رہے تھے۔ یہ الفاظ، جو اس کے دل کے درد کو بیان کر رہے تھے۔
"محبت کا پہلا اظہار..." اس نے لکھا، اور پھر رک گیا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ اظہار محض ایک آغاز تھا۔ ایک ایسا آغاز جو ایک لمبی، درد بھری کہانی کا پیش خیمہ تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب اس نے اپنی محبت کو ناممکن کے دائرے میں محسوس کرنا شروع کیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب اس کے دل میں پہلی بار خلش نے جنم لیا۔
اس نے قلم چلائی۔ اس کے الفاظ، جو اب تک محض جذبات تھے، اب کاغذ پر زندہ ہو گئے۔ وہ اپنی ادھوری محبت کی کہانی لکھنے لگا۔ وہ اپنے دل کا درد، اپنی تنہائی، اپنی بے بسی، سب کچھ الفاظ میں ڈھالنے لگا۔ اس نے محسوس کیا کہ اس کی شاعری اب محض لفظ نہیں، بلکہ اس کے دل کی آواز ہے۔ وہ آواز جو کسی دوسرے دل تک پہنچنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔
یہ وہ لمحہ تھا جب اس نے اپنی قسمت کو قبول کرنا شروع کیا۔ اس نے محسوس کیا کہ شاید اس کی محبت کبھی مکمل نہ ہو۔ شاید وہ ہمیشہ اس کے لیے ایک خواب ہی رہے۔ مگر اس خواب کی یاد، اس کے درد کی گہرائی، اس کی ذات کا حصہ بننے والی تھی۔ اور اس درد کو، اس ادھوری محبت کو، وہ اپنی شاعری میں امر کرنے والا تھا۔
اس نے لکھنا جاری رکھا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ مگر وہ آنسو اس کے درد کی گہرائی کو بیان کر رہے تھے۔ وہ آنسو، جو اس کی ادھوری محبت کی گواہی دے رہے تھے۔ اس نے محسوس کیا کہ اس کی شاعری اب محض لفظ نہیں، بلکہ اس کے دل کی آواز ہے۔ وہ آواز جو کسی دوسرے دل تک پہنچنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔
یہ وہ لمحہ تھا جب اس نے اپنی قسمت کو قبول کرنا شروع کیا۔ اس نے محسوس کیا کہ شاید اس کی محبت کبھی مکمل نہ ہو۔ شاید وہ ہمیشہ اس کے لیے ایک خواب ہی رہے۔ مگر اس خواب کی یاد، اس کے درد کی گہرائی، اس کی ذات کا حصہ بننے والی تھی۔ اور اس درد کو، اس ادھوری محبت کو، وہ اپنی شاعری میں امر کرنے والا تھا۔
اس نے لکھنا جاری رکھا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ مگر وہ آنسو اس کے درد کی گہرائی کو بیان کر رہے تھے۔ وہ آنسو، جو اس کی ادھوری محبت کی گواہی دے رہے تھے۔ اس نے اپنی قلم کو روکا۔ اس نے کاغذ پر لکھی ہوئی سطروں کو پڑھا۔ یہ اس کی محبت کا پہلا اظہار تھا۔ ایک ایسا اظہار جو ناکام رہا، مگر جس نے اس کی شاعری کو ایک نئی سمت دی۔ ایک نئی زندگی دی۔
اس نے محسوس کیا کہ اس کی محبت، اگرچہ ناممکن تھی، مگر وہ زندہ تھی۔ وہ اس کے دل میں، اس کی روح میں، اس کی شاعری میں زندہ تھی۔ اور شاید یہی اس کی محبت کا حاصل تھا۔ ایک ایسا حاصل جو دنیا کی نظر میں کچھ نہ ہو، مگر اس کے لیے سب کچھ تھا۔ اس نے قلم دوبارہ اٹھائی۔ اس نے محسوس کیا کہ اس کی شاعری کا سفر ابھی شروع ہوا تھا۔ ایک ایسا سفر جو اس کی ادھوری محبت کے نام تھا۔