Chapter 1

دل کی گہرائیوں سے صدا

شاعر کے دل میں محبت کا پہلا احساس بیدار ہوتا ہے، ایک ناگہانی کرب جو الفاظ بننے کی خواہش پیدا کرتا ہے۔ یہ وہ ابتدائی لمحہ ہے جب ناممکن کا درد شعور میں اترتا ہے اور شاعری کا سفر شروع ہوتا ہے۔

8 min read

دل کی گہرائیوں سے اٹھتی ایک صدا تھی، جو خاموش آنسوؤں کی صورت بہہ رہی تھی۔ یہ صدا اس کے سینے میں اٹھنے والے ایک نئے، انجانے کرب کی تھی۔ ایک ایسا کرب جو وجود کے ہر ریشے میں سرایت کر رہا تھا، مگر جس کی بنیاد کہیں دور، کسی اور دنیا میں رکھی گئی تھی۔ شاعر، جس کا نام شاید وقت کے اوراق پر کبھی نمایاں نہ ہوتا، آج اس کرب کا محور بنا تھا۔ اس کی آنکھیں آسمان کی وسعتوں میں گم تھیں، مگر نظریں کسی ایک نقطے پر ٹھہرنے سے قاصر۔ ہر شے دھندلی تھی، جیسے کوئی بادل دل پر چھا گیا ہو، اور اس بادل میں کہیں کوئی ننھا سا ستارہ چمک رہا تھا، جس تک پہنچنا ناممکن تھا۔

یہ کوئی ہنگامی احساس نہ تھا، نہ ہی کوئی اچانک پیدا ہونے والا جذبہ۔ یہ تو جیسے بہت پہلے سے مقدر میں لکھا تھا، بس آج اس کی پردہ کشائی ہو رہی تھی۔ ایک عجیب سی بے چینی تھی جو اس کے وجود میں ہلچل مچا رہی تھی۔ وہ اٹھا، بے ارادہ، اور کمرے میں چکر لگانے لگا۔ ہر قدم کے ساتھ دل کا بوجھ بڑھتا جا رہا تھا۔ اس کے اندر کچھ ٹوٹ رہا تھا، یا شاید کچھ بن رہا تھا۔ کسے خبر تھی؟ اس کی اپنی ذات بھی اس گہرائی میں اترنے سے ڈر رہی تھی۔

اس نے کھڑکی کا رخ کیا اور باہر اندھیرے میں جھانکنے لگا۔ رات کا پہر تھا، اور شہر سونا تھا۔ مگر اس کے دل میں تو ایک شور تھا، ایک طوفان تھا۔ یہ طوفان کسی باہر کی دنیا کا نہ تھا، بلکہ اس کے اپنے اندر کا تھا۔ وہ محسوس کر رہا تھا کہ اس کے دل کے کسی گوشے میں ایک چراغ جل اٹھا ہے، مگر اس کی روشنی اتنی مدھم تھی کہ وہ خود اسے دیکھ بھی نہ پا رہا تھا۔ یہ چراغ کس کی یاد میں جل رہا تھا؟ کس کا عکس اس کی آنکھوں کے سامنے ناچ رہا تھا، جو نہ تو مکمل تھا، نہ ہی واضح؟

وہ ایک پرانی میز کے پاس آ بیٹھا۔ اس پر کاغذات اور قلم بکھرے پڑے تھے۔ وہ اکثر یہاں آ کر بیٹھتا تھا، جب خیالات کا سیلاب امڈتا تھا۔ مگر آج کا سیلاب کچھ اور تھا۔ یہ جذبات کا سمندر تھا، جو اس کے وجود کو بہا لے جانے کے درپے تھا۔ اس نے قلم اٹھایا، مگر انگلیوں میں وہ لچک نہ تھی جو پہلے تھی۔ قلم کا وزن اسے بھاری محسوس ہو رہا تھا۔ وہ کیا لکھے؟ کسے لکھے؟ وہ الفاظ جو اس کے دل میں اٹھ رہے تھے، وہ تو جیسے کسی اور زبان میں تھے، جسے وہ خود بھی سمجھنے سے قاصر تھا۔

اس نے آنکھیں بند کر لیں۔ ایک چہرہ ابھرا، مگر پورا نہیں تھا۔ صرف آنکھیں، جن میں گہرا سمندر چھپا تھا۔ ان آنکھوں میں ایک کشش تھی، ایک درد تھا، اور ایک بے نیازی بھی۔ وہ آنکھیں اسے اپنی طرف کھینچ رہی تھیں، مگر ساتھ ہی ایک فاصلے کا احساس بھی دلا رہی تھیں۔ وہ فاصلہ جو شاید کبھی طے نہ ہو سکے۔ وہ فاصلہ جو تقدیر نے بنا دیا تھا۔

وہ لمحہ جب پہلی بار اس نے اسے دیکھا تھا، ابھر آیا۔ ایک بھیڑ میں، ایک لمحے کے لیے۔ وقت ٹھہر گیا تھا۔ دنیا کی ساری آوازیں خاموش ہو گئیں۔ صرف ایک احساس تھا، جو اس کے دل میں انگڑائی لے رہا تھا۔ وہ احساس، جو اب درد بن کر اسے ستائے گا۔ اس نے اس لمحے کو پکڑنے کی کوشش کی، اسے سمجھنے کی کوشش کی۔ مگر وہ لمحہ تو جیسے ہوا میں تحلیل ہو گیا تھا۔ وہ شخص، وہ چہرہ، سب کچھ دھندلا سا رہ گیا۔ بس ایک نقش سا رہ گیا تھا، دل پر۔

یہ کوئی خواب نہ تھا، نہ ہی کوئی فریب۔ یہ تو حقیقت کا وہ پہلو تھا، جو اس کی زندگی میں نیا رنگ بھرنے آیا تھا۔ ایک ایسا رنگ، جو پہلے تو دلکش لگے، مگر بعد میں اسی رنگ میں ڈوب جانے کا احساس ہو۔ وہ اس نئے احساس کو نام دینے کی کوشش کر رہا تھا۔ اسے محبت کہنا مناسب تھا؟ مگر یہ کیسی محبت تھی، جو ابھی جنم ہی لے رہی تھی اور پہلے ہی ناممکن لگ رہی تھی۔

اس نے قلم کو کاغذ پر رکھا۔ پہلی لکیر کھینچی۔ وہ لکیر سیدھی نہ تھی۔ وہ ٹیڑھی میڑھی، جیسے دل کی دھڑکن ہو۔ اس نے کچھ الفاظ لکھے، مگر وہ الفاظ اس کے دل کے درد کو بیان کرنے سے قاصر تھے۔ وہ الفاظ تو جیسے محض جھاگ تھے، جو سمندر کی گہرائی کو چھپا نہیں سکتے۔

"یہ کیسا کرب ہے؟" اس نے خود سے پوچھا۔ اس کے حلق سے نکلی آواز اتنی مدھم تھی کہ خود اسے بھی سنائی نہ دی۔ وہ اٹھا اور کمرے کے گرد پھر گھومنے لگا۔ دیواروں پر لٹکی تصویریں اسے گھور رہی تھیں۔ ہر شے اسے اس انجانے احساس کی یاد دلا رہی تھی۔ وہ محسوس کر رہا تھا کہ اس کے اندر کوئی نیا دریچہ کھل گیا ہے، جو اسے ایک ایسی دنیا دکھا رہا ہے، جہاں وہ کبھی پہنچ نہیں سکے گا۔

اسے یاد آیا، وہ رات جب اس نے پہلی بار اس کے بارے میں سوچا تھا۔ وہ رات کی تاریکی میں، اکیلا بیٹھا تھا۔ چاند کی روشنی اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔ اس کے دل میں ایک ہلکی سی ٹیس اٹھی، جو آہستہ آہستہ ایک گہرا درد بن گئی۔ وہ درد، جو اس کی روح میں اتر گیا۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔ ستارے چمک رہے تھے۔ ہر ستارہ اسے اس کے چہرے کا کوئی حصہ یاد دلا رہا تھا۔ وہ چہرہ جو مکمل طور پر اس کی یادوں میں موجود نہ تھا۔

وہ دوبارہ میز کے پاس آیا۔ اس نے کاغذ کے اوراق الٹ پلٹ کیے۔ پرانی نظمیں، پرانے گیت۔ سب بے معنی لگ رہے تھے۔ ان میں وہ گہرائی نہ تھی، وہ سچائی نہ تھی۔ آج جو کچھ اس کے دل میں اٹھ رہا تھا، وہ تو کچھ اور تھا۔ وہ تو جیسے دل کی ایسی زبان تھی، جو صرف اسی کی تھی۔

اس نے دوبارہ قلم اٹھایا۔ اس بار اس نے کچھ سوچ کر نہ لکھا۔ جو دل میں آیا، لکھتا گیا۔ الفاظ خود بخود کاغذ پر اترتے گئے۔

"یہ کون سی رات ہے، جو ڈھلتی نہیں؟ یہ کون سی پیاس ہے، جو بجھتی نہیں؟ دل میں کوئی طوفان اٹھا ہے آج، روح میں کوئی صدا سی گونجتی ہے۔"

وہ لکھتا گیا، اور الفاظ کی صورت میں اس کے دل کا بوجھ ہلکا ہوتا گیا۔ مگر یہ ہلکا پن محض وقتی تھا۔ اسے معلوم تھا کہ یہ درد اسے اب کبھی نہیں چھوڑے گا۔ یہ درد اس کی زندگی کا حصہ بننے والا تھا۔ یہ درد اس کی پہچان بننے والا تھا۔

وہ اس چہرے کو سوچ رہا تھا۔ وہ چہرہ جو اس کے لیے ایک خواب تھا۔ ایک ایسا خواب، جس کی تعبیر ناممکن تھی۔ مگر پھر بھی، وہ خواب اسے روز ستاتا تھا۔ وہ خواب اسے روز جینے کا نیا بہانہ دیتا تھا۔ یہ کیسی محبت تھی، جو اس کی زندگی کو بدل رہی تھی، مگر اسے مکمل طور پر حاصل نہ تھی۔

اس نے قلم رکھ دیا۔ کاغذ پر لکھی ہوئی سطریں اس کی آنکھوں کے سامنے ناچ رہی تھیں۔ وہ سطریں، جو اس کے دل کی گہرائیوں سے نکلی تھیں۔ وہ سطریں، جو اس کے ناممکن عشق کی پہلی صدا تھیں۔ اس صدا میں درد تھا، تڑپ تھی، اور ایک انجانی امید بھی۔ وہ امید، جو شاید کبھی پوری نہ ہو، مگر اس کے جینے کا سہارا بن جائے۔

وہ اٹھا اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔ رات کی تاریکی میں، اسے ایک ستارہ نظر آیا۔ وہ ستارہ تنہا چمک رہا تھا۔ اس کی روشنی مدھم تھی، مگر مستقل۔ شاید یہ ستارہ اس کی محبت کی علامت تھا۔ ایک ایسی محبت، جو دور تھی، ادھوری تھی، مگر اس کے دل میں ہمیشہ روشن رہے گی۔

اس نے گہرا سانس لیا۔ اس کے دل میں ایک فیصلہ ہوا۔ وہ اس درد کو قبول کرے گا۔ وہ اس ناممکن محبت کو اپنی شاعری کا موضوع بنائے گا۔ وہ اس درد کو الفاظ کا روپ دے گا، اور اس روپ میں دوسروں کے لیے تسکین تلاش کرے گا۔ یہ اس کا پہلا قدم تھا۔ ناممکن عشق کی راہ پر، جہاں قدم قدم پر درد اور تنہائی منتظر تھی۔

اس نے قلم اٹھایا اور ایک نیا کاغذ لیا۔ اس بار اس کے ہاتھ میں وہ لرزش نہ تھی۔ اس کے دل میں وہ بے چینی نہ تھی۔ اس کی آنکھوں میں ایک نئی چمک تھی۔ وہ چمک، جو درد سے پیدا ہوتی ہے، مگر فن کی صورت میں ابھرتی ہے۔

"دل کی گہرائیوں سے اٹھی یہ صدا، ناممکن عشق کی پہلی ادا۔ یہ درد، یہ کرب، یہ تنہائی، اب میری شاعری کی ہے ابتدا۔"

اس نے لکھنا شروع کیا۔ الفاظ اب اس کے غلام تھے۔ وہ ان سے کھیل رہا تھا۔ وہ ان میں اپنے دل کا درد بھر رہا تھا۔ یہ درد، جو اس کی زندگی کا نیا محور تھا۔ یہ درد، جو اسے فن کی بلندیوں تک لے جانے والا تھا۔ یہ درد، جو اس کے عشق کو "لاحاصل" بنا کر بھی، اسے لازوال کر دے گا۔ یہ اس کا آغاز تھا۔ ایک ایسا آغاز، جو انجام کی طرف نہیں، بلکہ ایک نئے سفر کی طرف لے جا رہا تھا۔ ایک ایسا سفر، جو درد سے بھرا تھا، مگر اسی درد میں تسکین بھی پوشیدہ تھی۔

✦ ✦ ✦
دل کی گہرائیوں سے صدا - عشق لاحاصل | AI Book Craft