Chapter 3
تقدیر کا کھیل
قسمت کے کھیل میں محبت کے راستے جدا ہو جاتے ہیں۔ حالات ایسے بنتے ہیں کہ دونوں کا ملنا ناممکن لگتا ہے۔ یہ جدائی کا درد شاعر کے دل میں اترتا ہے اور اس کی شاعری کا موضوع بن جاتا ہے۔
تقدیر کا کھیل
رات کی چادر تنی تھی اور ستارے آنکھیں جھپک رہے تھے، جیسے وہ بھی اس کائنات کے اندھیرے میں تنہا سفر کر رہے ہوں۔ شاعر، اپنی کھڑکی کے پاس بیٹھا، ٹھنڈی ہوا کے دوش پر اداس لمحات کو محسوس کر رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں قلم تھا، مگر وہ بے معنی کاغذ کے ٹکڑے پر گھوم رہا تھا۔ دل میں جو طوفان اٹھا تھا، وہ الفاظ کی صورت اختیار کرنے سے قاصر تھا۔
کچھ دن پہلے تک، ہر شے روشن اور پر امید تھی۔ محبت کا پہلا اظہار، وہ لمحہ جب دلوں کی دنیا بدل گئی تھی۔ وہ دن، وہ ساعت، وہ نگاہیں جو الفاظ کے بغیر بہت کچھ کہہ گئیں تھیں۔ مگر اب؟ اب تو بس ایک سناٹا تھا، ایک گہرا، ناقابلِ عبور خلا۔ قسمت نے اپنا کھیل شروع کر دیا تھا۔
وہ جانتا تھا کہ محبت کا سفر ہمیشہ سیدھا نہیں ہوتا۔ اس میں موڑ آتے ہیں، کھائیاں آتی ہیں، اور کبھی کبھی تو ایسے پہاڑ آ جاتے ہیں جنہیں پار کرنا ناممکن لگتا ہے۔ مگر اس نے کبھی سوچا نہ تھا کہ اس کا اپنا سفر اتنا ہی کٹھن اور دردناک ہوگا۔
وہ لمحہ جب حقیقت نے اس کے دل پر دستک دی، ابھی تک اس کی آنکھوں کے سامنے تھا۔ وہ اک شام تھی، جب ہوا میں اداسی گھلی ہوئی تھی۔ ملاقات کا وقت مقرر تھا، مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ایک ناگہانی اطلاع، ایک اچانک تبدیلی، اور پھر وہ انتظار جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔
اس نے فون اٹھایا، مگر نمبر ڈائل کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔ کیا کہتا؟ کیسے پوچھتا کہ یہ سب کیا ہے؟ کیا وہ اب بھی منتظر ہے؟ یا شاید اس نے بھی حالات کے سامنے سر جھکا دیا ہے؟ یہ سوچ ہی اسے اندر سے توڑ رہی تھی۔
"قسمت کا کھیل..." اس نے آہستہ سے کہا، اس کی آواز میں ایک گہرا درد تھا۔ "کیا یہ واقعی ایک کھیل ہے؟ یا بس بہانا ہے ان لوگوں کے لیے جو اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہوتے ہیں؟"
وہ اٹھا اور کمرے میں چکر لگانے لگا۔ اس کے قدموں کی آہٹ اس خاموشی میں گونج رہی تھی جو اس کے دل میں بسی تھی۔ اسے یاد آیا وہ دن جب اس نے پہلی بار اس کے بارے میں سوچا تھا۔ وہ صرف ایک حسینہ نہیں تھی، وہ ایک خواب تھی، ایک ایسی حقیقت جس کا وہ صرف تصور کر سکتا تھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک ایسی چمک تھی جو ستاروں کو شرما دے، اس کی مسکراہٹ میں وہ سکون تھا جو دنیا کی ہر پریشانی کو دور کر دے۔
مگر اب؟ اب وہ پردوں کے پیچھے تھی، دور، بہت دور۔ اور وہ یہاں، اس تنہائی میں، اس ناممکن آرزو کے ساتھ۔
اسے وہ دن یاد آیا جب اس نے پہلی بار اپنی محبت کا اظہار کیا تھا۔ وہ ایک خوبصورت شام تھی، پھولوں کی خوشبو ہوا میں پھیلی ہوئی تھی۔ اس نے ہمت کر کے اپنے دل کی بات کہہ دی تھی۔ اس کی آنکھیں امید سے بھری ہوئی تھیں، اس کا دل دھڑکنوں سے بے قابو تھا۔ اور اس کا جواب؟ اس کا جواب تو بس ایک خاموشی تھی، ایک ایسی خاموشی جس میں ہزاروں سوال دفن تھے۔ مگر اس نے اس خاموشی میں بھی امید کی کرن دیکھی تھی۔
مگر آج، وہ خاموشی اسے ڈرا رہی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ حالات بدل چکے ہیں۔ کچھ ایسی دیواریں کھڑی ہو گئی تھیں جنہیں عبور کرنا اس کے بس میں نہیں تھا۔ وہ دیواریں جو سماج نے بنائی تھیں، جو روایات نے بنائی تھیں، اور شاید جو قسمت نے خود بنائی تھیں۔
اس نے اپنی انگلیوں سے کاغذ پر لکھی ہوئی کچھ پرانی سطریں محسوس کیں۔ وہ اس کی پہلی نظم تھی، جو اس وقت لکھی گئی تھی جب اسے یقین تھا کہ اس کی محبت رنگ لائے گی۔
"تیری آنکھوں کا نور، میرے دل کی پناہ گاہ، تیری ہنسی کی صدا، میرے جگر کی آہ۔ اگر تو نہ ملے، تو زندگی بے رنگ، تو ہی میرا سب کچھ، تو ہی میرا سنگ۔"
یہ سطریں آج اسے طنز لگ رہی تھیں۔ وہ سنگ کہاں تھا؟ وہ پناہ گاہ کہاں تھی؟ سب کچھ تو ادھورا رہ گیا تھا۔
اسے وہ لمحہ یاد آیا جب اسے پہلی بار احساس ہوا کہ یہ محبت شاید مکمل نہ ہو سکے۔ وہ ایک میلہ تھا، لوگوں کا ہجوم، خوشیوں کے رنگ۔ اور وہ، اس ہجوم میں، اسے دور سے دیکھ رہا تھا۔ اس کے ارد گرد لوگ تھے، مگر وہ تنہا تھا۔ اور پھر، قسمت نے اپنا پہلا وار کیا۔ وہ منظر جو اس نے دیکھا، اس نے اس کے دل کو چیر دیا۔ وہ کسی اور کے ساتھ تھی، مسکرا رہی تھی، مگر وہ مسکراہٹ اس کے لیے نہیں تھی۔
اس نے آنکھیں بند کر لیں۔ وہ منظر اس کے ذہن سے مٹ نہیں رہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ اس کی اور اس کی راہیں جدا ہو رہی ہیں۔ وہ ایک طرف جا رہی تھی، اور وہ دوسری طرف۔ اور ان کے درمیان ایک ایسی گہری کھائی تھی جسے پُر کرنا ناممکن تھا۔
"یہ قسمت کا کھیل ہے،" اس نے پھر دہرایا۔ "اور میں اس کھیل کا مہرہ ہوں۔"
وہ جانتا تھا کہ اب انتظار کے سوا کچھ نہیں ہے۔ وہ انتظار جو صبر کا امتحان لیتا ہے، جو دل کو توڑتا ہے، اور جو روح کو زخمی کرتا ہے۔ مگر وہ انتظار کرنے کو تیار تھا۔ کیونکہ اس کے دل میں جو محبت تھی، وہ صرف نام کی محبت نہیں تھی۔ وہ ایک ایسی آگ تھی جو بجھنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔
اسے یاد آیا کہ اس نے کیا سوچا تھا جب اسے پہلی بار احساس ہوا تھا کہ یہ محبت ناممکن ہے۔ اس نے سوچا تھا کہ وہ اس درد کو قبول کرے گا۔ وہ اس غم کو گلے لگائے گا۔ اور وہ اسے اپنی شاعری میں ڈھال دے گا۔
"شاید یہی میرا مقدر ہے،" اس نے سوچا۔ "شاید میری قسمت میں یہی لکھا ہے۔ کہ میں اس سے محبت کروں، مگر اسے کبھی پا نہ سکوں۔ کہ میں اس کے لیے تڑپوں، مگر وہ کبھی میری نہ ہو سکے۔"
یہ سوچ اسے تکلیف دے رہی تھی، مگر ساتھ ہی اسے ایک عجیب سی تسکین بھی دے رہی تھی۔ کیونکہ اس نے اپنی محبت کو ناممکن ہونے کے باوجود زندہ رکھا تھا۔ اس نے اسے اپنے دل کی گہرائیوں میں محفوظ کر لیا تھا۔
اس نے قلم اٹھایا اور کاغذ پر کچھ لکھنے لگا۔ اس بار اس کی انگلیاں تیزی سے چل رہی تھیں۔
"تقدیر کا یہ کھیل نرالا، کبھی تو ملا دے، کبھی کر دے بھلا۔ دل میں جلتی یہ آگ بجھے نا، تیرے بنا یہ جی اب جئے نا۔"
یہ سطریں اس کے دل کی آواز تھیں۔ یہ اس کے درد کی گواہی تھیں۔ یہ اس کی ناممکن محبت کا اظہار تھیں۔
رات گہری ہو رہی تھی۔ ستارے اب اور بھی روشن لگ رہے تھے۔ شاید وہ اس کی شاعری سن رہے تھے۔ شاید وہ اس کے درد کو محسوس کر رہے تھے۔
وہ جانتا تھا کہ یہ جدائی کا درد اسے اور گہرا کر دے گا۔ یہ اسے اور زیادہ تنہا کر دے گا۔ مگر وہ اس تنہائی میں بھی اس کی محبت کو محسوس کرے گا۔ وہ اس کے بغیر بھی اس سے جڑا رہے گا۔
اس نے اپنی نظم مکمل کی۔ اس کے ہاتھ تھک چکے تھے، مگر اس کا دل سکون محسوس کر رہا تھا۔ اس نے اپنی ساری اداسی، اپنا سارا درد، اپنی ساری ناممکن آرزوئیں ان سطروں میں قید کر دی تھیں۔
"یہ محبت، یہ درد، یہ میری قسمت، سب تیرے نام، اے میری راحت۔ اگر تو نہ ملی، تو غم نہ ہوگا، تیری یادیں ہی میرا سرمایہ ہوگا۔"
اس نے کاغذ کو اپنے سینے سے لگایا۔ یہ اس کی سب سے قیمتی شے تھی۔ یہ اس کی ناممکن محبت کا سب سے بڑا ثبوت تھا۔
وہ جانتا تھا کہ قسمت کا کھیل ابھی ختم نہیں ہوا۔ ابھی بہت سے موڑ باقی تھے۔ مگر اس نے اس کھیل کو قبول کر لیا تھا۔ اس نے اپنی محبت کو، اپنے درد کو، اپنی ناممکن آرزو کو فن میں ڈھال دیا تھا۔ اور یہی اس کی تسکین تھی۔ یہی اس کا سہارا تھا۔
وہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔ چاند اب آسمان پر اونچا تھا، جیسے وہ اس کی تنہائی کا گواہ ہو۔ ہوا کا ایک جھونکا آیا اور اس کے بال بکھیر گیا۔ اس نے آنکھیں بند کیں اور ایک گہری سانس لی۔
"ناممکن..." اس نے آہستہ سے کہا۔ "مگر پھر بھی، سچی۔"
اور اس کے دل میں، یہ ناممکن محبت، ایک لازوال داستان بن کر ہمیشہ کے لیے زندہ ہو گئی۔ اس کی شاعری، اس درد کی گواہی بن کر، ہمیشہ کے لیے امر ہو گئی۔