Chapter 8

ماضی کے اوراق

آریان کو اپنے ماضی کی تاریک حقیقتیں سامنے آنے لگتی ہیں۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی شہرت اور موجودہ مشکلات کا تعلق کسی پرانے، بھلائے ہوئے واقعے سے ہے۔

8 min read

آریان نے آنکھیں کھولیں تو اسے سب سے پہلے چھت کا وہ گہرا، بے رنگ گنبد نظر آیا جو اس کے کمرے کی پہچان بن چکا تھا۔ ہر صبح وہ اسی طرح بیدار ہوتا، خود کو ایک ایسے اجنبی کمرے میں پاتا جس کی دیواریں اس کی اپنی زندگی کی گواہ تو تھیں، مگر اس کے لیے بالکل بے معنی تھیں۔ وہ کون تھا؟ یہ سوال اب اس کی روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن چکا تھا۔ انسپکٹر جاوید کی بنائی ہوئی تصویر، مایا کی پراسرار خاموشی، رضوان کا مبالغہ آمیز احترام، یہ سب بمشکل ہی اس کی یادداشت کے دھندلکے کو چاک کر پاتے تھے۔

گزشتہ رات، مایا نے اسے ایک پرانی ڈائری تھما دی تھی۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے جب اس نے وہ ڈائری کھولی۔ صفحے پیلے پڑ چکے تھے، سیاہی مدھم ہو چکی تھی، مگر الفاظ اب بھی کسی چیخ کی طرح اس کی روح میں اتر رہے تھے۔ یہ ڈائری اس کی اپنی تھی، مگر اس میں لکھا ہوا آریان، آج کے آریان سے بالکل مختلف تھا۔ ایک ایسا آریان جو خوفزدہ تھا، جو کسی چیز سے بھاگ رہا تھا، جو کسی گناہ کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھا۔

"میں اسے بھلا نہیں سکتا۔ وہ منظر میری آنکھوں کے سامنے گھومتا رہتا ہے۔ وہ چیخیں... وہ خون..." یہ چند سطریں اس کے ذہن میں گونج رہی تھیں۔ کون سا منظر؟ کون سی چیخیں؟ کس کا خون؟ ڈائری میں مزید تفصیلات تھیں، مگر وہ سب کی سب دھندلی اور پراسرار تھیں۔ وہ کسی "منصوبے" کا ذکر کر رہا تھا، کسی "خطرناک کھیل" کا، اور سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ تھی کہ وہ کسی "قیمت" کی بات کر رہا تھا۔

Keep reading "ماضی کے اوراق"

The full chapter is in the AIBookCraft app — free to read, with your spot saved.

Free on iOS & Android · No signup to read