Chapter 3
یادداشت کا دھندلکا
ایک پراسرار حادثے کے بعد، آریان اپنی یادداشت کا کچھ حصہ کھو دیتا ہے۔ اس کے آس پاس کے لوگ اور واقعات اسے مشکوک لگنے لگتے ہیں، اور وہ خود کو تنہا محسوس کرتا ہے۔
تیسرے باب کا عنوان تھا "یادداشت کا دھندلکا"
آریان کی آنکھیں آہستہ آہستہ کھلی تھیں۔ سر میں ایک تیز درد اٹھ رہا تھا، جیسے کوئی ہتھوڑے سے ضربیں لگا رہا ہو۔ روشنیاں چبھیں، اور ایک لمحے کے لیے اسے لگا کہ وہ کسی اندھے کنویں میں گر رہا ہے۔ جب اس کی نظریں آس پاس کی چیزوں پر مرکوز ہوئیں، تو اس نے خود کو ایک سفید، اجنبی کمرے میں پایا۔ وہ اسپتال میں تھا؟ لیکن کیسے؟ آخری بات جو اسے یاد تھی وہ تھی ایک بھیڑ، شور، اور پھر… کچھ نہیں۔
"آریان؟" ایک نرم، جانی پہچانی آواز نے اسے چونکا دیا۔ اس نے گردن موڑی۔ سامنے مسکراتی ہوئی مایا کھڑی تھی۔ اس کی آنکھوں میں تشویش تھی، لیکن ایک پراسرار چمک بھی۔
"مایا؟ تم یہاں کیا کر رہی ہو؟" آریان کی آواز نحیف تھی۔ اسے کچھ یاد نہیں آ رہا تھا۔ آخری بار کب اس نے مایا کو دیکھا تھا؟ وہ کب سے اس کے ساتھ تھی؟
"میں یہاں تمہارے لیے ہوں۔" مایا نے آریان کے قریب آ کر اس کا ہاتھ پکڑا۔ اس کا لمس ٹھنڈا تھا۔ "تمہیں یاد نہیں؟ وہ حادثہ… کل رات۔"
حادثہ؟ آریان نے اپنی پیشانی پر ہاتھ پھیرا۔ اسے کچھ یاد نہیں آ رہا تھا۔ گہرا، سیاہ خلا۔ "کون سا حادثہ؟ مجھے کچھ یاد نہیں آ رہا، مایا۔" اس کی آواز میں بے بسی تھی۔
مایا کی مسکراہٹ قدرے مدھم ہوئی۔ "تمہیں کچھ یاد نہیں؟ یہ تو عجیب بات ہے۔ اگرچہ تمہارے سر پر چوٹ لگی تھی، ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ تمہیں سب کچھ یاد ہوگا۔" اس نے آریان کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔ "کیا تمہیں بالکل کچھ یاد نہیں؟"
آریان کو مایا کی باتوں میں ایک عجیب سی پراسراریت محسوس ہوئی۔ اس کی آنکھوں میں تشویش تو تھی، لیکن وہ تشویش سچی لگ رہی تھی یا کوئی اداکاری؟ "مجھے بس… سر میں درد ہے اور کچھ بھی یاد نہیں آ رہا۔"
اسی اثنا میں کمرے کا دروازہ کھلا اور انسپکٹر جاوید اندر داخل ہوئے۔ ان کے چہرے پر سنجیدگی تھی۔ انہوں نے ایک نظر مایا پر ڈالی، پھر آریان پر۔ "مسٹر آریان، مجھے افسوس ہے کہ آپ کو اس حالت میں دیکھنا پڑ رہا ہے۔"
آریان نے انسپکٹر جاوید کو دیکھا۔ ان کا چہرہ بھی کچھ جانا پہچانا سا لگا، مگر کہاں دیکھا تھا، یہ یاد نہ آیا۔ "آپ کون ہیں؟" اس نے پوچھا۔
انسپکٹر جاوید نے ایک پل کے لیے مایا کو دیکھا، پھر جواب دیا، "میں انسپکٹر جاوید ہوں۔ میں آپ کے معاملے کی تحقیقات کر رہا ہوں۔"
"معاملہ؟ کون سا معاملہ؟" آریان کی پریشانی بڑھ گئی۔
"وہ دھمکیاں جو آپ کو مل رہی تھیں۔" انسپکٹر جاوید نے کہا۔ "اور کل رات کا وہ پراسرار واقعہ جس میں آپ زخمی ہوئے۔"
دھمکیاں؟ آریان کو کچھ یاد نہ آیا۔ اس کی زندگی تو کامیابیوں سے بھری تھی، لوگ اس سے محبت کرتے تھے، اس کی تعریف کرتے تھے۔ اسے کون دھمکیاں دے سکتا تھا؟ "مجھے کسی قسم کی دھمکیوں کا علم نہیں۔"
انسپکٹر جاوید نے مایا کی طرف دیکھا۔ "مسٹر آریان کی یادداشت پر اثر پڑا ہے۔ انہیں کل رات کے حادثے کے بعد کچھ بھی یاد نہیں ہے۔"
مایا نے سر ہلایا۔ "یہ حیران کن ہے۔"
"کیا آپ نے کچھ دیکھا تھا، مس؟" انسپکٹر جاوید نے مایا سے پوچھا۔
مایا نے ایک لمحے کے لیے سوچا، پھر کہا، "میں وہاں موجود تھی۔ جب یہ سب ہوا، میں آریان کے گھر ہی تھی۔ اچانک شور ہوا، اور جب میں باہر نکلی، تو آریان فرش پر گرا ہوا تھا اور… اور وہاں کوئی اور نہیں تھا۔"
"کوئی اور نہیں تھا؟" انسپکٹر جاوید کی آنکھوں میں شک ابھرا۔ "لیکن آپ نے کہا کہ وہ ایک حادثہ تھا۔"
"میں نے صرف اتنا دیکھا کہ وہ بے ہوش پڑا تھا۔" مایا نے فورا جواب دیا۔ "میں نے خود کال کی تھی پولیس کو۔"
آریان خاموشی سے سب سن رہا تھا۔ اسے کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ یہ لوگ اس سے کیا کہہ رہے تھے؟ دھمکیاں؟ حادثہ؟ وہ سب کس بارے میں بات کر رہے تھے؟ اس کی اپنی زندگی، اس کی کامیابیاں، سب کچھ ایک پراسرار پردے کے پیچھے چھپ گیا تھا۔
کچھ دن بعد، آریان کو اسپتال سے چھٹی مل گئی۔ وہ اپنے گھر آیا، مگر یہ گھر اسے اجنبی لگ رہا تھا۔ ہر چیز پرانی تھی، مگر اس میں کوئی اپنائیت محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ مسٹر رضوان، اس کا مینیجر، اس کا منتظر تھا۔
"آریان! میرے بیٹے! تم واپس آ گئے!" مسٹر رضوان نے اسے گلے لگایا۔ ان کی آواز میں خوشی تھی، مگر آریان کو ان کی آنکھوں میں ایک خاص قسم کی چمک نظر آئی، جو شاید لالچ کی تھی۔
"آپ کا شکریہ، رضوان صاحب۔" آریان نے کہا۔
"تم فکر مت کرو۔ سب ٹھیک ہو جائے گا۔" مسٹر رضوان نے کہا۔ "میں نے تمہارے سب کام سنبھال لیے ہیں۔ اب تمہیں بس آرام کرنے کی ضرورت ہے۔"
آریان نے کمرے کا جائزہ لیا۔ دیواروں پر اس کی تصویریں لگی تھیں۔ وہ مختلف کرداروں میں، مختلف انداز میں۔ مگر اسے ان تصویروں میں خود کو پہچاننا مشکل ہو رہا تھا۔ یہ شخص کون تھا؟ وہ اتنا مشہور کیسے ہوا؟
"رضوان صاحب، مجھے کچھ یاد نہیں آ رہا۔" آریان نے کہا۔ "آپ مجھے کچھ بتا سکتے ہیں؟ میں کون تھا؟ میں کیا کرتا تھا؟"
مسٹر رضوان نے ایک لمحے کے لیے اس کی طرف دیکھا۔ "تم ایک بہت بڑے اداکار تھے۔ دنیا تمہیں جانتی تھی۔ تم نے بہت کام کیا تھا، بہت نام کمایا تھا۔"
"مگر میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟" آریان نے پوچھا۔ "وہ دھمکیاں، وہ حادثہ… کیا یہ سب میرے کام کی وجہ سے تھا؟"
مسٹر رضوان نے اداسی کا اظہار کیا۔ "ہو سکتا ہے۔ فلم انڈسٹری میں حسد بہت ہوتا ہے۔ مگر اب تم فکر مت کرو۔ میں ہوں نا۔ ہم سب سنبھال لیں گے۔"
آریان کو مسٹر رضوان کی باتیں بھی پراسرار لگیں۔ وہ اسے تسلی تو دے رہے تھے، مگر ان کی آنکھوں میں کچھ اور ہی چل رہا تھا۔ وہ اسے مکمل سچائی سے دور رکھ رہے تھے، ایسا محسوس ہو رہا تھا۔
اگلے کچھ دن آریان نے خاموشی سے گزارے۔ وہ گھر میں اکیلا وقت گزارتا، اپنی پرانی فلمیں دیکھتا، مگر اسے کچھ یاد نہ آتا۔ اس کی زندگی جیسے کسی اور کی کہانی بن گئی تھی۔ مایا اکثر آ کر اس سے ملتی، اسے تسلی دیتی، مگر اس کی باتوں میں بھی ایک گہرائی تھی۔ وہ اسے اس کی زندگی کے بارے میں بتاتی، مگر وہ سب کچھ اس کے لیے ایک کہانی کی طرح تھا۔
ایک شام، آریان اپنے کمرے میں بیٹھا تھا جب اس کی نظر ایک پرانی ڈائری پر پڑی۔ یہ اس کی ڈائری تھی۔ اس نے اسے کھولا، مگر اس میں لکھی باتیں اسے سمجھ نہ آئیں۔ کچھ نام تھے، کچھ واقعات، کچھ ادھورے جملے۔ مگر ایک صفحے پر اس نے کچھ خاص لکھا تھا۔
"میں جانتا ہوں کہ کچھ غلط ہے۔ یہ سب اتنا آسان نہیں ہو سکتا۔ وہ لوگ… وہ مجھے دیکھ رہے ہیں۔ میں کسی پر بھروسہ نہیں کر سکتا۔ مایا… کیا وہ بھی انہی لوگوں میں سے ہے؟ مجھے نہیں معلوم۔ مگر مجھے سچائی جاننی ہوگی۔ مجھے اپنا ماضی یاد کرنا ہوگا۔"
آریان کو یہ پڑھ کر حیرت ہوئی۔ یہ اس کی اپنی تحریر تھی، مگر اسے کچھ یاد نہیں آ رہا تھا۔ وہ کس کی بات کر رہا تھا؟ وہ کس سے ڈر رہا تھا؟
اس نے ڈائری بند کی اور اسے ایک طرف رکھ دیا۔ اسے احساس ہوا کہ اس کی یادداشت کا کھو جانا محض ایک حادثہ نہیں تھا۔ اس کے پیچھے کوئی گہرا راز چھپا تھا۔ اور وہ راز اس کی اپنی زندگی سے جڑا ہوا تھا۔
اگلے دن، آریان نے ایک فیصلہ کیا۔ وہ خود سچائی کی تلاش کرے گا۔ وہ اس پراسرار حادثے کی حقیقت جان کر رہے گا۔ وہ ان لوگوں کا پتہ لگائے گا جو اسے دھمکیاں دے رہے تھے۔ اور اس سب کے لیے، اسے اپنے ماضی کو کھولنا ہوگا۔
وہ کمرے سے نکلا۔ اس کی آنکھوں میں ایک نئی قسم کی چمک تھی۔ یہ شہرت کا نشہ نہیں تھا، نہ ہی کامیابی کا احساس۔ یہ خود کو تلاش کرنے کی، اپنے کھوئے ہوئے وجود کو پانے کی جستجو تھی۔ اسے معلوم تھا کہ یہ راستہ مشکل ہوگا، مگر اب وہ تنہا نہیں تھا، چاہے اسے خود پر ہی کیوں نہ بھروسہ کرنا پڑے۔ اس کے اندر کا وہ شخص جو ابھری ہوئی شہرت کے پیچھے چھپا تھا، اب جاگ چکا تھا۔ اور وہ اپنی پہچان ڈھونڈنے کے لیے ہر حد پار کرنے کو تیار تھا۔