Chapter 2
سایہ دار دھمکیاں
آریان کو نامعلوم ذرائع سے دھمکیاں ملنا شروع ہو جاتی ہیں۔ یہ پراسرار پیغامات اس کی پرسکون زندگی میں خوف اور عدم تحفظ کی لہر دوڑا دیتے ہیں۔
رات گہری ہو چلی تھی۔ شہر کی روشنیاں، جو دن میں آریان کی آنکھوں کو خیرہ کرتی تھیں، اب ایک پراسرار چمک بکھیر رہی تھیں۔ آریان، جس کے قدموں کے تال پر فلمی دنیا ناچتی تھی، آج اپنے ہی گھر کی چار دیواری میں قید محسوس کر رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک خط تھا۔ سادہ سا سفید کاغذ، مگر اس پر لکھے الفاظ کسی زہریلے سانپ کی طرح اس کی رگوں میں دوڑ رہے تھے۔
"تمہاری چمک بہت تیز ہے۔ جلد بجھ جائے گی۔"
یہ کوئی پہلا پیغام نہیں تھا۔ پچھلے کچھ دنوں سے یہ ناگوار پیغامات، فون کالز، اور ای میلز کا سلسلہ جاری تھا۔ شروع میں تو اس نے انہیں نظر انداز کر دیا تھا۔ وہ آریان تھا، کامیابی اس کے قدم چومتی تھی، کون اسے نقصان پہنچا سکتا تھا؟ مگر اب، جب یہ دھمکیاں اس کے قدموں میں، اس کے کمرے میں، اس کی انگلیوں میں محسوس ہو رہی تھیں، تو خوف کی ایک سرد لہر اس کے پورے وجود پر چھا گئی۔
اس نے خط کو میز پر رکھا اور کمرے میں چکر لگانے لگا۔ ہر سایہ اسے مشکوک لگ رہا تھا۔ ہر آہٹ اسے کسی خطرے کا اشارہ دے رہی تھی۔ یہ کیسا احساس تھا؟ وہ جو کبھی میدان کا شہسوار تھا، آج خود کو ایک پھندے میں پھنسا ہوا محسوس کر رہا تھا۔ اس کی کامیابی، اس کی شہرت، وہ سب کچھ جو اس نے اتنی محنت سے کمایا تھا، اب اسے ایک بھاری بوجھ لگ رہا تھا۔
"مسٹر رضوان، کیا آپ نے کوئی ایسی بات سنی ہے؟ کوئی ایسا شخص جو مجھ سے ناراض ہو؟" اس نے فون اٹھایا اور اپنے مینیجر کو ملایا۔
دوسری طرف سے رضوان کی گہری، مگر قدرے مصنوعی آواز سنائی دی۔ "کیا ہوا آریان؟ سب خیریت ہے؟ آپ اتنے پریشان کیوں لگ رہے ہیں؟"
"مجھے دھمکیاں مل رہی ہیں، رضوان۔ نامعلوم ذرائع سے۔" آریان کی آواز میں ایک ہچکچاہٹ تھی۔
رضوان کے لہجے میں فوراً تشویش پیدا ہوئی۔ "کیا؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ آپ نے پولیس کو بتایا؟"
"ابھی نہیں۔ میں پہلے آپ سے بات کرنا چاہتا تھا۔ کہیں یہ کوئی مذاق تو نہیں؟ کوئی پرانا جھگڑا؟"
"بالکل نہیں، آریان۔ مجھے حیرت ہو رہی ہے۔ آپ کی اتنی بڑی فین فالونگ ہے، مگر کوئی ایسا دشمن... مجھے تو کوئی ایسا شخص یاد نہیں جو آپ سے اتنی دشمنی رکھتا ہو۔" رضوان کی آواز میں سنجیدگی تھی، مگر آریان کو اس میں ایک عجیب سی بناوٹ محسوس ہوئی۔ جیسے وہ کچھ چھپا رہا ہو۔
"آپ مجھے یقین دلائیں کہ آپ کو اس بارے میں کچھ علم نہیں؟" آریان نے زور دیا.
"میں آپ کو یقین دلاتا ہوں، آریان۔ آپ فکر نہ کریں۔ میں جلد ہی آپ سے ملتا ہوں۔ ہم اس معاملے کو دیکھیں گے۔" رضوان نے جلدی سے بات ختم کی.
آریان نے فون بند کر دیا۔ رضوان کی باتوں نے اسے مزید الجھا دیا۔ وہ ایسا کیوں کہہ رہا تھا جیسے اسے یقین نہ ہو؟ یا شاید وہ صرف اسے تسلی دے رہا تھا؟ آریان کو اب اپنے ارد گرد ہر شخص پر شک ہونے لگا تھا۔ وہ جو کل تک اپنی دنیا میں مگن تھا، آج خود کو ایک ایسے جال میں الجھا ہوا پا رہا تھا جس کا ہر رشتہ مشکوک تھا۔
اگلے دن، آریان نے اپنی نئی فلم کی شوٹنگ کے سیٹ پر جانے کا فیصلہ کیا۔ شاید کام میں مصروفیت اسے اس خوف سے نکال سکے۔ مگر سیٹ پر پہنچتے ہی اسے ایک اور جھٹکا لگا۔ کیمرے کی آنکھیں، جو ہمیشہ اس کی تعریف میں جھکتی تھیں، آج اسے گھور رہی تھیں۔ ہر کوئی سرگوشیاں کر رہا تھا۔
"کیا تم نے سنا؟ وہ آریان..." "ہاں، مجھے بھی یہی خبر ملی ہے۔"
آریان کو احساس ہوا کہ اس کے بارے میں افواہیں پھیل چکی ہیں۔ اس کی پریشانی اب صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہی تھی۔
"آریان، تم ٹھیک ہو؟" سیٹ پر اس کی ایک پرانی دوست، مایا، اس کے پاس آئی۔ مایا، جو فلمی دنیا کی چکاچوند سے دور رہتی تھی، مگر آریان کے لیے ہمیشہ ایک خاص جگہ رکھتی تھی۔ اس کی آنکھوں میں وہ گہرائی تھی جو آریان کو ہمیشہ اپنی طرف کھینچتی تھی۔
"میں ٹھیک نہیں ہوں، مایا۔ مجھے دھمکیاں مل رہی ہیں۔" آریان نے جلدی سے کہا۔
مایا نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ "مجھے پتہ ہے۔ مجھے تھوڑا اندازہ تھا کہ کچھ گڑبڑ ہے۔"
"تمہیں؟ کیسے؟" آریان حیران ہوا۔
"وہ... بس کچھ اشارے ملے تھے۔" مایا نے بات ٹال دی۔ "تم فکر نہ کرو۔ میں تمہارے ساتھ ہوں۔"
اس کی باتوں میں ایک عجیب سی یقین دہانی تھی، مگر آریان کو اس میں بھی ایک پوشیدہ راز محسوس ہوا۔ مایا، جو ہمیشہ اس کے لیے ایک ٹھنڈی چھاؤں کی طرح رہی تھی، آج اسے کسی پراسرار پناہ گاہ کی طرح لگ رہی تھی۔ کیا وہ واقعی اس کی مدد کر رہی تھی، یا وہ بھی اس جال کا حصہ تھی؟
شوٹنگ کے دوران، آریان کا دھیان بار بار بھٹک رہا تھا۔ وہ اپنے ڈائیلاگ بھول جاتا، کیمرے کی طرف دیکھنا بھول جاتا۔ اس کا دماغ وہیں اٹکا ہوا تھا، ان دھمکیوں اور ان نامعلوم دشمنوں کے گرد۔
اچانک، اس کے ہاتھ میں ایک اور کاغذ آیا۔ یہ اس کے لباس کے جیب میں کسی نے رکھا تھا۔ اس پر لکھا تھا:
"تم جو ڈھونڈ رہے ہو، وہ تمہیں مل جائے گا۔ مگر اس کی قیمت بہت زیادہ ہوگی۔"
آریان کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔ یہ کوئی مذاق نہیں تھا۔ یہ کوئی دشمن تھا جو اسے جانتا تھا۔ جو اس کے اندرونی خوف کو سمجھتا تھا۔
شوٹنگ کے بعد، جب وہ گھر واپس آیا، تو اس کے دروازے پر ایک پولیس اہلکار کھڑا تھا۔ انسپکٹر جاوید۔ ایک سنجیدہ اور محنتی افسر، جس کے چہرے پر تجسس اور شک دونوں کے ملے جلے تاثرات تھے۔
"مسٹر آریان؟" انسپکٹر جاوید نے کہا۔ "میں انسپکٹر جاوید۔ ہمیں آپ کی طرف سے دھمکیوں کی شکایت موصول ہوئی ہے۔ کیا آپ مجھے اس بارے میں کچھ بتا سکتے ہیں؟"
آریان نے اسے اندر آنے کی دعوت دی۔ وہ انسپکٹر جاوید کے سامنے بیٹھا اور تمام تفصیلات بتائیں۔ اس نے وہ خطوط اور پیغامات بھی دکھائے۔
انسپکٹر جاوید نے سب کچھ غور سے سنا اور کاغذات کو دیکھا۔ "یہ کوئی عام شخص نہیں کر رہا، مسٹر آریان۔ یہ کوئی ایسا شخص ہے جو آپ کو جانتا ہے۔ اور شاید آپ کے ماضی سے جڑا ہوا ہے۔"
"میرا ماضی؟" آریان نے حیرت سے پوچھا۔ "میرا ماضی تو بہت سیدھا سادہ ہے۔"
"کیا واقعی؟" انسپکٹر جاوید نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔ "ہمیں اکثر اپنے ماضی کے وہ حصے بھول جاتے ہیں جو ہمیں تکلیف دیتے ہیں۔"
انسپکٹر جاوید کے سوالوں نے آریان کو اور بھی پریشان کر دیا۔ وہ کون سا ماضی تھا جس کا ذکر ہو رہا تھا؟ وہ کیا بھول گیا تھا؟
"کیا آپ کے کسی پرانے دوست، ساتھی، یا کسی ایسے شخص سے کوئی پرانی دشمنی ہے جسے آپ نے نظر انداز کر دیا ہو؟" انسپکٹر جاوید نے پوچھا۔
آریان نے سوچنے کی کوشش کی۔ اس کی زندگی کامیابیوں سے بھری تھی، مگر وہ کبھی کسی سے الجھا نہیں تھا۔ مگر... کیا واقعی ایسا تھا؟ اس کی آنکھوں کے سامنے ایک دھندلی سی تصویر ابھرنے لگی۔ ایک پرانا جھگڑا، ایک تلخ یاد... مگر وہ اتنی واضح نہیں تھی۔
"میں... میں یقین سے نہیں کہہ سکتا۔" آریان نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔
انسپکٹر جاوید نے سر ہلایا۔ "ٹھیک ہے۔ ہم تحقیقات شروع کر رہے ہیں۔ آپ اپنا خیال رکھیے گا۔ اور اگر آپ کو کچھ بھی یاد آئے، تو فوراً ہمیں بتائیے گا۔"
انسپکٹر جاوید کے جانے کے بعد، آریان مزید تنہا محسوس کرنے لگا۔ ہر طرف سوال تھے، مگر جواب کہیں نظر نہیں آ رہے تھے۔ وہ کون تھا جو اسے دھمکی دے رہا تھا؟ اور کیوں؟ کیا یہ سب اس کی شہرت کی قیمت تھی؟ یا اس کے پیچھے کوئی اور گہرا راز چھپا تھا؟
رات کا اندھیرا اس کے کمرے میں اتر آیا تھا۔ آریان نے کھڑکی سے باہر جھانکا۔ شہر کی وہی روشنیاں، مگر آج وہ اسے اجنبی لگ رہی تھیں۔ وہ جو کل تک سب کا چہیتا تھا، آج خود کو ایک ایسے سفر پر محسوس کر رہا تھا جس کا انجام نامعلوم تھا۔ سایہ دار دھمکیاں اس کے گرد منڈلا رہی تھیں، اور وہ بے بس تھا۔ اس کی کامیابی کی چمک اب ایک اندھیرے میں گم ہونے والی شمع کی طرح محسوس ہو رہی تھی۔