Chapter 12
تنہائی کا سایہ
شہرت کی چکا چوندھ ختم ہو جاتی ہے اور آریان خود کو تنہا پاتا ہے۔ وہ لوگوں سے دور ہو جاتا ہے، اور اس کے ارد گرد صرف خاموشی رہ جاتی ہے۔
شہر کی روشنیاں جو کبھی آریان کی زندگی کا مرکز تھیں، اب دور کسی دھند میں گم ہو چکی تھیں۔ شہرت کی وہ چکا چوندھ جو اس کی ہر سانس میں رچی بسی تھی، اب محض ایک مدھم یاد بن کر رہ گئی تھی۔ وہ خود کو ایک ایسے وسیع صحرا میں تنہا کھڑا محسوس کر رہا تھا جہاں دور دور تک کوئی سایہ، کوئی پناہ گاہ نظر نہیں آ رہی تھی۔ اس کے آس پاس لوگوں کا ہجوم تھا، وہ چہرے جو کبھی اس کے لیے تالیاں بجاتے تھے، اسے دعائیں دیتے تھے، مگر اب وہ سب دھندلے اور بے معنی لگ رہے تھے۔
آریان نے اپنے گرد ایک انجانی دیوار محسوس کی۔ یہ دیوار اس کی اپنی بنائی ہوئی تھی، یا شاید اسے بنائی گئی تھی، وہ اب اس میں فرق نہیں کر پا رہا تھا۔ وہ ان سب سے دور ہو گیا تھا جنہیں وہ کبھی اپنا کہتا تھا۔ مایا، جس کی آنکھوں میں اسے سچائی کی تلاش نظر آتی تھی، یا شاید دھوکے کا گہرا سمندر، اس کے لیے اب صرف ایک سوالیہ نشان تھی۔ انسپکٹر جاوید، جس کی نگاہیں ہر وقت اس کے ہر فعل کا تجزیہ کرتیں، وہ اب اس کے لیے صرف ایک پریشانی کا سبب تھا۔ اور مسٹر رضوان، اس کا مینیجر، جو ہمیشہ اس کے کیریئر کی فکر کرتا تھا، اب اس کے لیے صرف ایک خود غرض اور مفاد پرست چہرہ تھا۔
اس نے اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر جھانکا۔ رات کا اندھیرا اس کی تنہائی کو مزید گہرا کر رہا تھا۔ شہر کی وہ تمام چمک دمک جو کبھی اسے اپنی طرف کھینچتی تھی، اب اسے خوفزدہ کر رہی تھی۔ اسے یاد تھا کہ کیسے وہ خود کو اس بھیڑ کا حصہ سمجھتا تھا، کیسے وہ ان تمام لوگوں کے درمیان رہ کر بھی خود کو تنہا محسوس کرتا تھا۔ مگر اب یہ تنہائی کچھ اور تھی۔ یہ وہ تنہائی تھی جو اس کی اپنی پسند تھی، مگر وہ اس کے لیے تیار نہیں تھا۔
Keep reading "تنہائی کا سایہ"
The full chapter is in the AIBookCraft app — free to read, with your spot saved.
Free on iOS & Android · No signup to read