Chapter 1

عروج کی چمک

آریان، ایک مقبول اداکار، اپنی کامیاب فلموں اور مداحوں کی محبت میں گم ہے۔ وہ زندگی کے ہر لمحے سے لطف اندوز ہو رہا ہے، شہرت کی بلندیوں پر ہے۔

12 min read

عروج کی چمک

شہر کی سب سے بلند عمارت کی ایک پینٹ ہاؤس کی بالکونی میں کھڑا، آریان نے رات کی خنک ہوا کا گہرا سانس لیا۔ نیچے، شہر ایک چمکتے ہوئے ہیرے کی مانند بکھرا ہوا تھا، اس کی روشنیاں ہزاروں امیدوں کی طرح جھلملا رہی تھیں۔ یہ منظر اس کے لیے نیا نہیں تھا، مگر آج اس میں کچھ اور ہی بات تھی۔ آج کی رات اس کے نام تھی۔ اس کی نئی فلم، 'سایہ'، نے ریلیز کے پہلے ہی دن تمام ریکارڈ توڑ دیے تھے۔ اس کی کامیابی کا سورج اتنی بلندی پر تھا کہ اسے کوئی سایہ نظر نہیں آ رہا تھا۔

"دیکھو تو، کون ستارہ آسمان سے اتر کر زمین پر آگیا ہے!" ایک پرجوش آواز نے اس کے خیالات کا طلسم توڑا۔

آریان مڑا۔ مسٹر رضوان، اس کا چست و چالاک مینیجر، ہاتھ میں شیشے کا گلاس لیے اس کے پاس آیا۔ گلاس میں مہنگی وہسکی بظاہر تو چمک رہی تھی، مگر آریان کو اس میں صرف اس کی اپنی عکاسی نظر آئی، ایک ایسی عکاسی جو اس وقت دنیا کی سب سے خوش قسمت شخص کی لگ رہی تھی۔

"یہ سب تمہاری محنت کا نتیجہ ہے، رضوان۔" آریان نے مسکراتے ہوئے کہا۔ اس کی مسکراہٹ ہمیشہ کی طرح پرکشش تھی، مگر اس کی آنکھوں میں ایک ایسی چمک تھی جو صرف کامیابی ہی دے سکتی تھی۔

رضوان نے گلاس اٹھایا۔ "یہ سب تمہاری ذہانت، تمہاری محنت، اور سب سے بڑھ کر، تمہارے کرشمے کا نتیجہ ہے۔ آج تم صرف ایک اداکار نہیں، تم ایک رجحان ہو، آریان۔"

آریان نے قہقہہ لگایا۔ "رجحان؟ میں تو بس ایک عام سا انسان ہوں جو اپنا کام کر رہا ہے۔"

"عام؟" رضوان نے حیرت کا ڈرامہ کیا۔ "کیا تمہیں وہ ہجوم یاد ہے جو سیٹ کے باہر تمہارے لیے گھنٹوں انتظار کر رہا تھا؟ کیا تمہیں وہ چیخیں یاد ہیں جو تمہارا نام پکار رہی تھیں؟ کیا تمہیں وہ ایوارڈز یاد ہیں جو اس کمرے میں تمہاری کامیابی کی گواہی دے رہے ہیں؟ یہ عام انسان کے کام نہیں، میرے دوست۔ یہ تو آسمان کو چھونے والے کرتے ہیں۔"

آریان نے گلاس رضوان کے ہاتھ سے لیا اور اس کی طرف دیکھا۔ "میں تمہاری تعریفوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، رضوان۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سب لمحاتی ہے۔ آج کا سورج کل غروب ہو جائے گا۔"

"ایسا کبھی نہیں ہوگا،" رضوان نے زور دیا۔ "تم ایک ایسے ستارے ہو جو ہمیشہ چمکے گا۔ اب، بس اس لمحے سے لطف اندوز ہو جاؤ۔ آج رات، دنیا تمہارے قدموں میں ہے۔"

آریان نے پھر سے شہر کی طرف دیکھا۔ رضوان کی باتیں اس کے دل کو چھو رہی تھیں۔ وہ واقعی اپنے عروج پر تھا۔ اس کی فلمیں ہٹ ہو رہی تھیں، اس کے مداح اس پر جان چھڑکتے تھے، اور اس کے پاس وہ سب کچھ تھا جو ایک انسان مانگ سکتا ہے۔ دولت، شہرت، اور وہ کرشمہ جو اسے دوسروں سے ممتاز کرتا تھا۔ مگر اس لمحے، جب وہ اپنی کامیابی کے نشے میں سرشار تھا، اسے یہ اندازہ نہیں تھا کہ اس کی زندگی میں ایک ایسا طوفان آنے والا ہے جو اس کی دنیا کو الٹ پلٹ کر رکھ دے گا۔

اگلے چند دن آریان کے لیے خوشیوں کے پیغام لائے۔ فلم 'سایہ' نے باکس آفس پر تاریخ رقم کر دی تھی۔ ہر طرف اسی کے چرچے تھے۔ اخبارات، ٹی وی چینلز، اور سوشل میڈیا پر بس وہی نظر آ رہا تھا۔ اسے انٹرویوز کے لیے بلایا جا رہا تھا، تقریبات میں مدعو کیا جا رہا تھا، اور ہر کوئی اس کی کامیابی کا جشن منا رہا تھا۔ وہ اس سب میں گم تھا، اپنی کامیابی کے نشے میں سرشار، مگر اسے یہ احساس نہیں تھا کہ اس کی خوش قسمتی کا یہ طلسم جلد ہی ٹوٹنے والا ہے۔

ایک شام، جب وہ اپنے گھر میں اکیلا بیٹھا فلم کی کامیابی کے بارے میں سوچ رہا تھا، اس کے فون پر ایک گمنام نمبر سے میسج آیا۔

"تمہاری یہ چمک زیادہ دیر نہیں رہے گی۔"

آریان نے میسج کو نظر انداز کر دیا۔ اسے لگا کہ یہ کسی ایسے شخص کا کام ہے جو اس کی کامیابی سے حسد کر رہا ہے۔ اس نے اپنے فون کو بیڈ سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا اور سونے چلا گیا۔

مگر اگلے دن، اور اس کے بعد کے دنوں میں، یہ میسجز آنا بند نہیں ہوئے۔ وہ مختلف نمبروں سے آ رہے تھے، اور ان میں دھمکیاں زیادہ پرتشدد ہوتی جا رہی تھیں۔

"اگر تم نے فلم کی ریلیز روکی نہیں، تو تمہاری زندگی کا پردہ گر جائے گا۔"

"تم نے وہ راستہ چنا ہے جو تمہاری تباہی کا باعث بنے گا۔"

آریان کو اب خوف محسوس ہونے لگا تھا۔ اس نے رضوان کو بتایا۔ رضوان نے اسے تسلی دی، "یہ سب حسد کرنے والوں کا کام ہے۔ تم فکر نہ کرو۔ میں سب سنبھال لوں گا۔"

مگر رضوان کی تسلیوں سے آریان کا خوف کم نہیں ہوا۔ وہ راتوں کو سو نہیں پاتا تھا۔ اسے ہر وقت ایسا لگتا جیسے کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہو۔ اس نے اپنی معمول کی زندگی کو بدل دیا، وہ اب پہلے کی طرح باہر نہیں جاتا تھا، اور جب بھی باہر جاتا تو بہت محتاط رہتا۔ اس کی آنکھوں کی چمک اب خوف میں بدلنے لگی تھی۔

ایک رات، وہ ایک فلم کی شوٹنگ کے بعد گھر لوٹ رہا تھا۔ اس کی گاڑی ایک سنسان سڑک پر تھی۔ اچانک، اس کی گاڑی کے ٹائر پھٹ گئے۔ جب وہ گاڑی سے باہر نکلا تو دیکھا کہ اس کے ٹائر جان بوجھ کر خراب کیے گئے تھے۔ وہ پریشان ہو کر ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ اتنے میں، ایک تیز رفتار گاڑی اس کی طرف آئی اور اسے ٹکر مار کر بھاگ گئی۔

آریان کو شدید چوٹیں آئیں۔ جب اسے ہوش آیا تو وہ ایک ہسپتال کے کمرے میں تھا۔ اس کے سر پر پٹی بندھی تھی اور وہ بہت کمزور محسوس کر رہا تھا۔ اس کے آس پاس سب کچھ دھندلا تھا۔

"آریان؟ تم ٹھیک ہو؟" ایک نرم آواز سنائی دی۔

آریان نے مشکل سے آنکھیں کھولیں۔ اس کے سامنے ایک خوبصورت چہرہ تھا، ایک ایسا چہرہ جسے اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ مگر اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی پراسراریت تھی۔

"میں کون ہوں؟" آریان نے کانپتی ہوئی آواز میں پوچھا۔

وہ عورت حیران رہ گئی۔ "تم کیا کہہ رہے ہو؟ تم آریان ہو، مشہور اداکار آریان۔ تمہیں کیا ہوا ہے؟"

آریان کو کچھ یاد نہیں آ رہا تھا۔ اسے بس اتنا یاد تھا کہ وہ ایک گاڑی کے حادثے کا شکار ہوا ہے، مگر اس سے پہلے کیا ہوا تھا، اسے کچھ نہیں معلوم تھا۔ اس کی یادداشت کا ایک حصہ غائب تھا۔

"مجھے کچھ یاد نہیں آ رہا،" آریان نے روتے ہوئے کہا۔ "مجھے نہیں معلوم میں کہاں ہوں، اور مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ میں کون ہوں۔"

اس عورت نے آہستہ سے اس کا ہاتھ پکڑا۔ "ڈرو مت، آریان۔ میں تمہاری مدد کروں گی۔ میرا نام مایا ہے۔"

مایا کی موجودگی نے آریان کو کسی حد تک سکون دیا۔ وہ اس کی دیکھ بھال کر رہی تھی، اور اسے تسلی دے رہی تھی۔ مگر جیسے جیسے وہ صحت یاب ہو رہا تھا، اسے اپنے آس پاس کے لوگ مشکوک لگنے لگے تھے۔ رضوان، جو اس سے ملنے آیا تھا، اس کی باتوں میں ایک عجیب سا اتار چڑھاؤ تھا۔ وہ آریان کی یادداشت کھو جانے کی بات پر زیادہ پریشان نظر نہیں آ رہا تھا، بلکہ شاید کسی حد تک خوش تھا۔

"تمہیں فکر نہیں کرنی چاہیے، آریان۔ یہ سب کچھ عارضی ہے،" رضوان نے کہا۔ "فلم کی شوٹنگ جاری رکھنی ہے۔ جلد ہی ہم سب کچھ ٹھیک کر لیں گے۔"

آریان کو رضوان کی باتوں میں سچائی نظر نہیں آ رہی تھی۔ اسے لگ رہا تھا کہ رضوان اس سے کچھ چھپا رہا ہے۔

ایک دن، انسپکٹر جاوید اس سے ملنے آیا۔ وہ ایک سنجیدہ اور سمجھدار آدمی لگ رہا تھا۔ اس نے آریان سے حادثے کے بارے میں پوچھا، مگر اس کے سوالات صرف حادثے تک محدود نہیں تھے۔ وہ بار بار آریان کے ماضی کے بارے میں پوچھ رہا تھا، اس کے پرانے دوستوں کے بارے میں، اور اس کی زندگی میں آنے والی تبدیلیوں کے بارے میں۔

"آپ کو کچھ یاد ہے، مسٹر آریان؟ کچھ بھی جو اس حادثے سے پہلے ہوا ہو؟" انسپکٹر جاوید نے پوچھا۔

آریان نے نفی میں سر ہلایا۔ "مجھے بس اتنا یاد ہے کہ مجھے دھمکیاں مل رہی تھیں۔"

انسپکٹر جاوید نے گہری سانس لی۔ "ہم اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ مگر مجھے لگتا ہے کہ اس حادثے کا تعلق آپ کی دھمکیوں سے ہے۔"

آریان کو اب یقین ہو گیا تھا کہ اس کے ساتھ کچھ غلط ہو رہا ہے۔ اس کی یادداشت کا کھو جانا، دھمکیاں، اور اس کے آس پاس کے لوگوں کا رویہ، سب کچھ ایک گہری سازش کی طرف اشارہ کر رہا تھا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی یادداشت اور ان دھمکیوں کی حقیقت کو تلاش کرے گا۔ وہ اب صرف ایک لاچار مریض نہیں رہنا چاہتا تھا۔ وہ وہ آریان بننا چاہتا تھا جو وہ پہلے تھا۔

ہسپتال سے چھٹی ملنے کے بعد، آریان نے اپنی زندگی کو دوبارہ ترتیب دینے کی کوشش کی۔ مگر اس کے لیے یہ آسان نہیں تھا۔ اس کی یادداشت ابھی بھی مکمل طور پر بحال نہیں ہوئی تھی۔ وہ اکثر الجھا ہوا اور پریشان رہتا۔ مگر اس نے مایا پر بھروسہ کیا۔ مایا اس کے ساتھ تھی، اسے وہ سب کچھ یاد دلانے کی کوشش کر رہی تھی جو وہ بھول گیا تھا۔

"تم بہت اچھے ہو، مایا،" آریان نے ایک شام کہا۔ "تم نے میری بہت مدد کی ہے۔"

مایا نے مسکرایا۔ "میں تمہاری دوست ہوں۔ مجھے خوشی ہے کہ میں تمہارے کام آ سکی۔"

مگر آریان کو مایا کی آنکھوں میں ایک ایسی گہرائی نظر آتی تھی جو اسے حیران کر دیتی تھی۔ اسے لگتا تھا کہ مایا کچھ چھپا رہی ہے۔ کیا وہ واقعی اس کی مدد کر رہی تھی، یا اسے مزید الجھا رہی تھی؟

آریان نے اپنی تحقیقات شروع کر دی تھی۔ اس نے رضوان سے پوچھا، مگر وہ ہمیشہ ٹال مٹول کرتا۔ اس نے انسپکٹر جاوید سے رابطہ کیا، مگر وہ بھی زیادہ معلومات دینے کو تیار نہیں۔ آریان کو احساس ہوا کہ اسے خود ہی حقیقت کا پتہ لگانا ہوگا۔

اس نے اپنے پرانے گھر کی طرف جانے کا فیصلہ کیا۔ وہ وہیں پیدا ہوا تھا، وہیں بڑا ہوا تھا۔ شاید وہاں اسے کچھ یاد آ جائے۔ جب وہ اپنے پرانے گھر پہنچا تو وہ اب پہلے جیسا نہیں تھا۔ وہ ویران اور سنسان تھا۔ مگر جب وہ اندر داخل ہوا تو اسے کچھ یاد آنے لگا۔ بچپن کی یادیں، والدین کی باتیں، اور کچھ ایسے چہرے جنہیں اس نے بہت پہلے بھلا دیا تھا۔

وہ ایک پرانے کمرے میں داخل ہوا جو اس کا بچپن کا کمرہ تھا۔ وہاں ایک پرانی الماری تھی۔ اس نے اسے کھولا اور اندر کچھ پرانی چیزیں دیکھیں۔ ایک پرانی ڈائری، کچھ پرانی تصاویر، اور ایک خفیہ دراز۔ اس نے دراز کھولی اور اندر ایک بند لفافہ دیکھا۔ لفافے پر اس کا نام لکھا تھا۔

اس نے کانپتے ہاتھوں سے لفافہ کھولا۔ اندر ایک خط تھا۔ یہ خط اس کی ماں نے لکھا تھا۔ خط میں لکھا تھا کہ آریان کے والدین نے اسے بچپن میں گود لیا تھا۔ وہ ان کا اپنا بچہ نہیں تھا۔ اور ان کی موت ایک حادثے میں نہیں ہوئی تھی، بلکہ انہیں قتل کیا گیا تھا۔ اور اس قتل کے پیچھے ایک شخص تھا جو ان کے پیسے اور جائیداد کا وارث بننا چاہتا تھا۔

آریان حیران رہ گیا۔ اس کی زندگی کا سب سے بڑا سچ اس کے سامنے تھا۔ وہ جس شہرت اور دولت پر فخر کر رہا تھا، وہ اس کے حقیقی والدین کی موت کا نتیجہ تھی۔ اور وہ شخص جو اس کا وارث بننا چاہتا تھا، وہ کون تھا؟

اس نے خط میں مزید پڑھا۔ اس کی ماں نے لکھا تھا کہ وہ شخص اب بھی آریان کی زندگی میں موجود ہے، اور وہ آریان کو کسی بھی قیمت پر اس سچائی کو جاننے سے روکنا چاہتا ہے۔ اس نے یہ بھی لکھا تھا کہ مایا اس کی مدد کر رہی تھی، اور وہ ان کی بچی تھی جو آریان کو اس کے ماضی سے جوڑنے کی کوشش کر رہی تھی۔

آریان کو سب کچھ سمجھ آ گیا۔ اس کی یادداشت کا کھو جانا، دھمکیاں، سب کچھ اس شخص کا کام تھا جو اس کی زندگی کو کنٹرول کرنا چاہتا تھا۔ اور وہ شخص کوئی اور نہیں، مسٹر رضوان تھا۔ رضوان ہی وہ شخص تھا جس نے آریان کے حقیقی والدین کو قتل کیا تھا اور ان کی جائیداد ہتھیا لی تھی۔ اور وہ اب آریان کو بھی راستے سے ہٹانا چاہتا تھا۔

آریان نے فوراً انسپکٹر جاوید سے رابطہ کیا۔ اس نے اسے سب کچھ بتایا۔ انسپکٹر جاوید نے آریان کی بات سن کر اسے فوری طور پر محفوظ جگہ پر منتقل کر دیا۔

اگلے دن، پولیس نے رضوان کو گرفتار کر لیا۔ رضوان نے اپنی ساری داستانیں سنائیں۔ اس نے اعتراف کیا کہ اس نے آریان کے والدین کو قتل کیا تھا اور اس کی یادداشت کو مٹانے کی کوشش کی تھی تاکہ وہ اس سچائی تک نہ پہنچ سکے۔

آریان اب آزاد تھا۔ مگر اس کی زندگی بدل چکی تھی۔ وہ اب وہ مشہور اداکار نہیں تھا جو اپنی کامیابیوں سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ وہ ایک ایسا شخص تھا جس نے اپنے ماضی کے تاریک رازوں کا سامنا کیا تھا۔ اس نے اپنی شہرت اور دولت کو خیرباد کہہ دیا۔ وہ اب تنہائی میں ایک نئی زندگی شروع کرنے کا فیصلہ کر چکا تھا۔

وہ ایک چھوٹے سے گاؤں میں چلا گیا۔ وہاں اس نے ایک پرانا سا گھر خریدا اور ایک نئی زندگی کا آغاز کیا۔ وہ اب فلموں میں کام نہیں کرتا تھا، مگر وہ اب بھی لوگوں کو اپنی کہانی سنا کر متاثر کرتا تھا۔ وہ اب مشہور تو نہیں تھا، مگر وہ اب تنہا بھی نہیں تھا۔ اس نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت کو قبول کر لیا تھا، اور اب وہ اس حقیقت کے ساتھ سکون سے جی رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں اب خوف نہیں، بلکہ ایک گہری سمجھ اور اطمینان تھا۔ اور یہ اطمینان اسے دنیا کی کسی بھی شہرت سے زیادہ عزیز تھا۔

✦ ✦ ✦