Chapter 2

داؤد کی بہادری: خدا پر بھروسہ کا سبق

داؤد کا جالوت پر فتح پانا محض طاقت کا کمال نہ تھا۔ یہ خدا پر اس کے مکمل بھروسے کا نتیجہ تھا۔ یہ باب نوجوانوں کو سکھائے گا کہ کیسے خدا پر بھروسہ کر کے وہ اپنی زندگی کے چیلنجز کا سامنا کر سکتے ہیں۔

8 min read

جوانی کا وہ رنگ جو خدا کے نور سے منور ہو، وہ ایسا ہوتا ہے جیسے صبح کا سورج ابھی ابھی افق پر نمودار ہوا ہو، اپنی پہلی کرنوں سے اندھیرے کو چیرتا ہوا، اور ہر چیز کو ایک نئی امید سے بھر دیتا ہو۔ میری جوانی کا یہی وہ رنگ تھا جب میں نے پہلی بار خدا کی طرف پلٹ کر دیکھا، جب سموئیل کی آواز میرے کانوں میں گونجی، اور اس نے میرے سر پر مسح کیا۔ وہ لمحہ، وہ قبولیت، وہ پہچان، میرے اندر ایک طوفان لے آئی۔ میں، ایک معمولی سا چرواہا، جو بھیڑوں کے ریوڑ کی حفاظت میں زندگی گزار رہا تھا، اچانک خدا کے منتخب بندوں میں شامل ہو گیا۔

لیکن میرے دوستو، خدا کی راہ کبھی سیدھی سادی نہیں ہوتی۔ وہ ہمیں چنتا تو ہے، مگر اس کے بعد آزمائشوں کا ایک سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ میری جوانی کی صبح کا یہ سورج ابھی پوری طرح طلوع بھی نہ ہوا تھا کہ فلستیوں کا سایہ ہمارے ملک پر پھیل گیا۔ ان کا سب سے بڑا پہلوان، جالوت، ایک دیوہیکل صورت والا، غرور و تکبر سے بھرا ہوا، ہمارے لشکر کو للکار رہا تھا۔ دن بہ دن، وہ ہمارے بہادر سپاہیوں کو ذلیل کر رہا تھا، اور ہمارے دلوں میں خوف کا راج تھا۔

میں، داؤد، اس وقت صرف ایک لڑکا تھا۔ میرے بھائی لشکر میں تھے۔ میں بھیڑیں چرانے گیا ہوا تھا، اور جب والد نے مجھے ان کے لیے کھانا لے جانے کا حکم دیا، تو میں لشکر میں پہنچا۔ میں نے وہ منظر دیکھا، سنا وہ طعنے، محسوس کی وہ بے بسی۔ جالوت کی آواز گرج رہی تھی، اور ہمارے بہادروں کی زبانیں گنگ ہو چکی تھیں۔ میرے دل میں ایک عجیب سی بے چینی اٹھ رہی تھی۔ یہ میرے خدا کے لوگوں کی توہین تھی، یہ میرے خدا کی توہین تھی۔

میں نے اپنے بھائیوں سے پوچھا، "جو شخص اس فلستی کو مارے گا اور ان کی لعنت کو دور کرے گا، اسے کیا ملے گا؟" لیکن میرے بھائیوں نے مجھے ڈانٹا، اور میرے دل میں یہ سوال اٹھا کہ کیا کوئی نہیں جو میرے خدا کے نام کی حرمت رکھے؟

پھر وہ لمحہ آیا جب میں نے فیصلہ کیا۔ یہ محض جوانی کا جوش نہ تھا، یہ خدا پر میرے بھروسے کا پہلا بڑا امتحان تھا۔ میں نے بادشاہ ساؤل کے سامنے جانے کا ارادہ کیا۔ مجھے ڈر تھا، مگر میرے اندر کی آواز کہہ رہی تھی کہ خدا میرے ساتھ ہے۔ میں جب ساؤل کے سامنے پیش ہوا، تو اس نے مجھے عجیب نظروں سے دیکھا۔ "تو تو ابھی لڑکا ہے، اور وہ تو بچپن سے پہلوان ہے۔"

میں نے جواب دیا، "جب میں اپنے باپ کی بھیڑوں کی رکھوالی کرتا تھا، اور کوئی شیر یا ریچھ آ کر بھیڑ اٹھا لے جاتا، تو میں اس کا پیچھا کرتا، اسے مارتا، اور بھیڑ کو چھڑا لیتا۔ جب وہ مجھ پر حملہ کرتا، تو میں اس کے منہ پر پکڑ کر اسے مار دیتا اور ہلاک کر دیتا۔ میں نے شیر اور ریچھ دونوں کو مار ڈالا۔ یہ فلستی، جس کا ختنہ نہیں ہوا، وہ ان میں سے ایک کی طرح ہوگا، کیونکہ اس نے زندہ خدا کے لشکر کو للکارا ہے۔"

یہ میرے منہ سے نکلے الفاظ تھے، مگر یہ میری اپنی طاقت کا اظہار نہ تھا۔ یہ خدا کی دی ہوئی ہمت تھی۔ میں نے خدا کے وعدوں پر یقین کیا تھا۔ وہ خدا جس نے مجھے شیر اور ریچھ سے بچایا تھا، وہ مجھے اس فلستی سے بھی بچائے گا۔

ساؤل نے مجھے اجازت دے دی، اور مجھے جنگی لباس پہنایا گیا۔ لیکن وہ مجھ پر بھاری تھا۔ میں نے وہ سب اتار دیے۔ میں نے اپنا چرواہے کا لباس پہنا، اور اپنی لاٹھی اٹھائی۔ میرے ہاتھ میں کچھ نہ تھا، سوائے میرے دل میں خدا کی محبت اور اس پر بھروسہ۔ میں وادی میں اترا، اور اپنے چرواہے کے تھیلے سے پانچ چمکدار پتھر چن لیے۔

جب جالوت نے مجھے دیکھا، تو وہ ہنسا۔ وہ مذاق اڑا رہا تھا۔ "کیا میں کتا ہوں کہ تو لاٹھی اور پتھر لے کر میرے پاس آتا ہے؟" اس نے مجھے لعنت ملامت کی۔

لیکن میں نے جواب دیا، "تو تلوار، نیزے اور ڈھال کے ساتھ میرے پاس آتا ہے، لیکن میں لشکروں کے خدا، اسرائیل کی فوجوں کے خدا کے نام سے تیرے پاس آتا ہوں، جس کو تو نے للکارا ہے۔ آج خداوند تجھے میرے ہاتھ میں دے دے گا، اور میں تجھے ماروں گا، اور تیرا سر کاٹ لوں گا۔ اور میں آج تیرے لشکر کی لاشیں ہوا کے پرندوں اور زمین کے جنگلی جانوروں کو دوں گا، تاکہ تمام زمین جان لے کہ اسرائیل میں ایک خدا ہے۔ اور یہ تمام جماعت جان لے گی کہ خداوند تلوار اور نیزے سے نجات نہیں دیتا، کیونکہ لڑائی خداوند کی ہے۔ اور وہ تجھے ہمارے ہاتھ میں دے دے گا۔"

وہ لمحہ، میرے دوستو، میری زندگی کا وہ نقطہ تھا جب میں نے خدا کی طاقت کو اپنی رگوں میں دوڑتے ہوئے محسوس کیا۔ میں نے پتھر اٹھایا، اسے اپنی گُلی میں رکھا، اور پوری قوت سے اسے جالوت کی طرف پھینکا۔ پتھر اس کے ماتھے پر لگا، اور وہ زمین پر گر گیا۔

یہ محض ایک پتھر کی فتح نہ تھی۔ یہ اس جوانی کی فتح تھی، جو خدا پر بھروسہ کرنا جانتی تھی۔ یہ اس ایمان کی فتح تھی، جو سب سے بڑے چیلنج کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکتی۔ یہ خدا کی طاقت کا مظاہرہ تھا، جس نے ایک معمولی لڑکے کو ایک عظیم پہلوان پر فتح دلائی۔

اس دن، میں نے سیکھا کہ خدا چھوٹے لوگوں سے بڑے کام لیتا ہے۔ وہ طاقتوروں کو حقیر کرتا ہے، اور حقیروں کو سر بلند کرتا ہے۔ شرط صرف اتنی ہے کہ ہم اسے اپنی جوانی سے یاد رکھیں۔

بائبل میں واعظ کی کتاب میں سلیمان بادشاہ نصیحت کرتا ہے، "اے نوجوان، اپنی جوانی کے دنوں میں اپنے خالق کو یاد کر۔" (واعظ 12:1)۔ یہ صرف ایک نصیحت نہیں، یہ زندگی کا ایک اصول ہے۔ جوانی زندگی کا سنہرا وقت ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب ہماری روح میں توانائی ہے، ہمارے دماغ میں تیزی ہے، اور ہمارا دل نرم ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب ہم خدا کے لیے وہ کام کر سکتے ہیں جو بڑھاپے میں مشکل ہو جائیں گے۔

ہم کل کا انتظار نہیں کر سکتے۔ ہم یہ نہیں سوچ سکتے کہ جب ہم جوان ہو جائیں گے، یا جب ہمیں وقت ملے گا، تب ہم خدا کو یاد کریں گے۔ نہیں، آج ہی وہ وقت ہے۔ خدا تمہاری توانائی چاہتا ہے۔ وہ تمہارے دل کی دھڑکن چاہتا ہے۔ وہ تمہاری سوچ کا رخ چاہتا ہے۔

جوانی میں لیے گئے فیصلے ہماری زندگی کی سمت بدل دیتے ہیں۔ اگر ہم خدا کو اپنی زندگی کا مرکز بنائیں، تو وہ ہماری راہ سیدھی کرے گا۔ امثال کی کتاب میں لکھا ہے، "اپنی سب راہوں میں اس کو یاد رکھ، اور وہ تیری راہیں سیدھی کرے گا۔" (امثال 3:6)۔ یہ ایک وعدہ ہے۔ پڑھائی ہو، نوکری ہو، رشتہ ہو، یا کوئی بھی فیصلہ ہو، اگر تم خدا سے پوچھو گے، اگر تم اس کی رہنمائی چاہو گے، تو وہ تمہیں غلط راستے سے بچا لے گا۔

دیر نہ کرو، میرے دوستو۔ ابھی وقت ہے۔ خدا کے ساتھ چلنا زندگی کو آسان بناتا ہے۔ وہ تمہیں سہارا دے گا، وہ تمہیں راستہ دکھائے گا۔ جوانی خدا کے لیے ہے۔ اس کی محبت، اس کی طاقت، اس کا منصوبہ تمہارے لیے ہے۔

آج کا سوال یہ ہے: کیا تم نے آج صبح اٹھ کر خدا کا شکریہ ادا کیا؟ کیا تمہارے دن کا پہلا خیال تمہارے موبائل کی رنگ ٹون ہے، یا خدا کی آواز؟ جب تم بستر سے اٹھتے ہو، تو تمہاری آنکھیں سب سے پہلے کس کو تلاش کرتی ہیں؟

میں تمہیں ایک چیلنج دیتا ہوں۔ ایک سات دن کا چیلنج۔ آج سے شروع کرو۔ ہر صبح، جیسے ہی تم بستر سے اٹھو، بیٹھ جاؤ۔ ایک منٹ کے لیے، خدا سے بات کرو۔ صرف یہ کہو: "خداوند، آج کا دن تیرے ہاتھ میں دیتا ہوں۔ مجھے سیدھی راہ دکھا۔ آمین۔" بس اتنا۔ سات دن تک یہ کرو۔ میں تمہیں یقین دلاتا ہوں، تمہیں خود اپنی زندگی میں فرق نظر آئے گا۔ تمہارے دل میں سکون آئے گا، تمہارے فیصلوں میں وضوح آئے گی۔

آؤ، ہم سب مل کر دعا کریں:

اے آسمانی باپ، میں تجھے اپنی جوانی دیتا/دیتی ہوں۔ میرا دل، میرا دماغ، میری طاقت، سب تیری ہے۔ مجھے بھٹکنے نہ دے۔ ہر صبح مجھے یاد دلانا کہ تو میرا خالق ہے۔ یسوع کے نام میں۔ آمین۔

داؤد کی کہانی محض ایک تاریخی واقعہ نہیں، یہ ہماری جوانی کے لیے ایک روشنی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ خدا، سب سے بڑا، سب سے طاقتور، ہماری دعاؤں کو سنتا ہے۔ وہ ہماری کمزوریوں کو جانتا ہے، اور وہ ہمیں مضبوط بنانا چاہتا ہے۔ وہ ہمیں جالوت جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا کرنے کی ہمت دیتا ہے، اگر ہم اس پر بھروسہ کریں۔ وہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہماری جوانی بے معنی نہیں، بلکہ خدا کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے۔ اور اس تحفے کو اس کے ہاتھوں میں سونپنا، زندگی کا سب سے بڑا مقصد ہے۔

✦ ✦ ✦