Chapter 1

جوانی کی صبح: خدا کو یاد رکھنے کا آغاز

نوجوان کی زندگی کا سنہرا وقت، جوانی، خدا کو یاد کرنے کا بہترین موقع ہے۔ جیسے داؤد نے اپنی جوانی میں خدا کو یاد رکھا، ویسے ہی آج کے نوجوان کو بھی اپنے خالق کو پہچاننا اور اس پر بھروسہ کرنا سکھایا جائے گا۔

8 min read

جوانی کی صبح: خدا کو یاد رکھنے کا آغاز

وہ وقت، جب زندگی کے دامن میں رنگ بھرنے کا آغاز ہوتا ہے، جب حوصلے آسمان کو چھونے کے خواب دیکھتے ہیں، جب دل میں ہزاروں چاہتیں اور امنگیں انگڑائیاں لیتی ہیں، وہ وقت جوانی کہلاتا ہے۔ یہ زندگی کا وہ سنہرا باب ہے، جس کے اوراق پر ہر لمحہ ایک نئی کہانی رقم ہوتی ہے۔ یہ وہ موسم ہے جب روح میں تازگی گھل جاتی ہے، جب جسم میں توانائی موجزن ہوتی ہے، اور جب ذہن میں ہزاروں سوالات کے پھول کھلتے ہیں۔ لیکن اس حسین موسم میں، اکثر ہم سمت کھو بیٹھتے ہیں۔ ہم اس خوبصورت صبح کو، اس نایاب وقت کو، کہیں ادھر ادھر بھٹکنے میں گزار دیتے ہیں۔

میں جب اپنے دل کے اندر جھانکتا ہوں، تو مجھے اپنے ہی جیسے ایک اور دل کی صدا سنائی دیتی ہے۔ وہ دل، جو سوالات سے بھرا ہے، جو جوابات کا متلاشی ہے، جو اس زندگی کے سفر میں اپنی منزل تلاش کر رہا ہے۔ مجھے وہ وقت یاد آتا ہے، جب میں خود جوان تھا۔ وہ بے فکری کے دن، وہ خوابوں کی تعبیر تلاش کرنے کی جستجو، وہ غلطیوں اور صحیح سمت کے درمیان الجھن۔ یہی حال آج کے ہر اس نوجوان کا ہے، جو اس دنیا کی رنگینیوں میں اپنی پہچان بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

ہم سب کے اندر ایک پیاس ہے، ایک تلاش ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری زندگی کا کوئی مقصد ہو، کوئی معنی ہو۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہم کچھ ایسا کریں، جو یادگار ہو، جو دوسروں کے لیے روشنی کا مینار بنے۔ لیکن اکثر ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اس مقصد کی تلاش کا آغاز کہاں سے ہوتا ہے۔ ہم دنیا کی چمک دمک میں کھو جاتے ہیں، اور اس اصل ماخذ کو فراموش کر دیتے ہیں، جس سے ہمیں زندگی ملی ہے۔

کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ جیسے کوئی پرانا قصہ، کوئی بھولی بسری کہانی، میرے کانوں میں سرگوشی کر رہی ہے۔ وہ کہانی ہے داؤد کی۔ ایک نوجوان، جو چرواہا تھا۔ جس کے ہاتھوں میں گلہ بان کا عصا تھا، اور دل میں خدا کا خوف۔ جب فلستیوں کا لشکر اسرائیل پر حملہ آور ہوا، اور ان کا سب سے بڑا پہلوان، جالوت، میدان میں آیا، تو بڑے بڑے بہادروں کے دل دہل گئے۔ ان کی طاقت، ان کی فوجیں، سب بے معنی لگنے لگیں۔ لیکن پھر ایک نوجوان سامنے آیا۔ داؤد۔

اس کی عمر ہی کیا تھی؟ وہ تو ابھی جوان تھا۔ اس کے پاس نہ کوئی بڑی فوج تھی، نہ کوئی تجربہ کار سپاہی۔ اس کے پاس بس ایک معمولی سی گلہ بان کی چھڑی، چند کنکریاں، اور ایک جھکی ہوئی کمان تھی۔ مگر اس کے دل میں ایک ایسی آگ تھی، جو کسی اور میں نظر نہیں آتی تھی۔ وہ جالوت کے سامنے کھڑا ہوا، اور اس نے کہا، "تو تو تلوار اور بھالا اور برچھے کے ساتھ مجھ پر حملہ کرتا ہے، پر میں لشکروں کے خداوند کے نام پر تجھ پر حملہ کرتا ہوں۔" (1 سموئیل 17:45)

یہ بات بہت گہری ہے۔ داؤد جوان تھا۔ اس کے جسم میں جوانی کی توانائی تھی۔ اس کے دل میں جوش تھا۔ مگر اس نے اپنی طاقت، اپنی توانائی، اپنے جوش کو کہاں لگایا؟ اس نے اسے خدا کے نام پر لگایا۔ اس نے خدا کو اپنا سپہ سالار بنایا۔ اس نے خدا پر بھروسہ کیا۔ اور پھر کیا ہوا؟ وہ کنکری، جو اس نے اپنی گلہ بان کی چھڑی سے ماری، وہ کوئی عام پتھر نہیں تھا۔ وہ خدا کی مدد کا ہتھیار تھی۔ اور جالوت گر گیا۔ ایک جوان، ایک خدا پر بھروسہ کرنے والا جوان، سب پر بھاری پڑا۔

یہ صرف ایک پرانی کہانی نہیں ہے۔ یہ آج کے ہر نوجوان کے لیے ایک سبق ہے۔ خدا چھوٹے لوگوں سے بڑے کام لیتا ہے۔ وہ ان سے جو اسے جوانی سے یاد رکھتے ہیں۔ جوانی وہ وقت ہے، جب خدا تمہیں اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے اور انہیں بروئے کار لانے کا موقع دیتا ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ تم اسے یاد رکھو۔ تم اسے اپنی زندگی کا مرکز بناؤ۔

میں سوچتا ہوں، میں خود اپنے آپ سے کیا کہتا ہوں۔ کہاں میرا وقت گزرتا ہے؟ کیا میں صبح اٹھتا ہوں، اور میرا پہلا خیال خدا ہوتا ہے، یا میرا موبائل؟ کیا میں دن کے آغاز میں، جب میری روح سب سے زیادہ تروتازہ ہوتی ہے، جب میرا دماغ سب سے زیادہ صاف ہوتا ہے، جب میرا دل سب سے زیادہ نرم ہوتا ہے، کیا میں اس وقت خدا کو یاد کرتا ہوں؟

واعظ کی کتاب میں، سلیمان بادشاہ، جو حکمت کا سمندر تھا، وہ اپنی جوانی کے دنوں میں اپنے خالق کو یاد کرنے کی نصیحت کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے، "اپنی جوانی کے دنوں میں اپنے خالق کو یاد رکھ، ایّامِ مصیبت کے آنے سے پیشتر، اور برسوں کے نزدیک آنے سے، جب تو کہے گا کہ مجھے ان میں لطف نہیں۔" (واعظ 12:1) وہ بڑھاپے کی کمزوریوں کا ذکر کرتا ہے۔ ہونٹوں کا کانپنا، دانتوں کا گرنا، آنکھوں کا دھندلا جانا۔ وہ وقت جب جسم جواب دے جاتا ہے، اور روح خدا کی طرف متوجہ ہونا چاہتی ہے، مگر جسم کی مجبوریاں اسے روک دیتی ہیں۔ وہ وقت جب عبادت مشکل ہو جاتی ہے۔

ہم کل کا انتظار کیوں کرتے ہیں؟ ہم کیوں سوچتے ہیں کہ جب میں بڑا ہو جاؤں گا، جب میں یہ کر لوں گا، جب میں وہ حاصل کر لوں گا، تب میں خدا کو یاد کروں گا۔ خدا تمہاری جوانی چاہتا ہے۔ وہ تمہاری توانائی چاہتا ہے۔ وہ تمہارے جوش کو اپنے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ وہ تمہارے دل کی نرمی کو محسوس کرنا چاہتا ہے۔ وہ تمہاری تیزی کو اپنی راہ پر لگانا چاہتا ہے۔

خدا کو پہلی جگہ دو۔ یہ کوئی مشکل مطالبہ نہیں۔ یہ تمہاری اپنی بھلائی کے لیے ہے۔ جب تم اسے اپنی زندگی کا مرکز بناتے ہو، تو وہ تمہاری زندگی کو سنوارتا ہے۔ وہ تمہاری الجھی ہوئی راہوں کو سلجھاتا ہے۔ وہ تمہارے اندھیروں میں روشنی کرتا ہے۔

دیر نہ کرو۔ وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ یہ جوانی کا لمحہ، یہ خوبصورت صبح، بہت جلد شام میں بدل جائے گی۔ مگر اگر تم اس صبح کو خدا کے نام کر دو، اگر تم اس کے ساتھ چلنا شروع کر دو، تو تمہاری زندگی کا سفر آسان ہو جائے گا۔ یہ خدا کے لیے ہے۔ تمہاری خدا کے لیے ہے۔

میں اپنے آپ سے پوچھتا ہوں: کیا میں نے آج صبح اٹھ کر خدا کا شکریہ ادا کیا؟ کیا میں نے اس کے دیے ہوئے ایک اور دن کے لیے اس کا شکر ادا کیا؟ یا میرا پہلا خیال، میری پہلی نظر، میرے موبائل فون کی سکرین پر پڑی؟ یہ سوال بہت اہم ہیں۔ یہ ہماری ترجیحات کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ ہماری زندگی کا مرکز کون ہے۔

یہ صرف سوچنے کی بات نہیں، یہ عمل کرنے کا وقت ہے۔ میں نے خود کو ایک چیلنج دیا۔ ایک سات روزہ چیلنج۔ میں نے سوچا، کیا میں صرف سات دن، ہر صبح بستر سے اٹھتے ہی، بیٹھ کر، صرف ایک منٹ کے لیے خدا سے بات کر سکتا ہوں؟ صرف یہ کہہ سکتا ہوں: "خداوند، آج کا دن تیرے ہاتھ میں دیتا ہوں۔ مجھے سیدھی راہ دکھا۔ آمین۔"

یہ سننے میں بہت آسان لگتا ہے۔ مگر اس میں بہت گہرائی ہے۔ جب تم صبح اٹھتے ہی، دنیا کی شور و غل میں قدم رکھنے سے پہلے، خدا کو یاد کرتے ہو، تو تم اپنے دن کی بنیاد مضبوط کرتے ہو۔ تم اسے اس دن کا محافظ بناتے ہو۔ تم اسے اپنا رہنما بناتے ہو۔

یہ سات دن، یہ صرف ایک تجربہ ہے۔ میں نے خود کو کہا، سات دن بعد، جب تم یہ کر لو گے، تو خود اپنے اندر تبدیلی محسوس کرو گے۔ تم دیکھو گے کہ تمہارا دن کیسے بہتر گزرتا ہے۔ تم دیکھو گے کہ تمہارے دل میں کیسے سکون آتا ہے۔ تم دیکھو گے کہ خدا کیسے تمہاری راہوں کو سیدھا کرتا ہے۔

آخر میں، میں دعا کرتا ہوں۔ ایک ایسی دعا، جو میرے دل کی آواز ہے۔ ایک ایسی دعا، جو میرے جیسے ہر اس نوجوان کی آواز ہے، جو اپنی زندگی کا مقصد تلاش کر رہا ہے۔

اے آسمانی باپ، میں تجھے اپنی جوانی دیتا/دیتی ہوں۔ میرا دل، میرا دماغ، میری طاقت سب تیری ہے۔ مجھے بھٹکنے نہ دے۔ مجھے دنیا کی ہوس، دنیا کی چمک دمک میں گم نہ ہونے دے۔ ہر صبح مجھے یاد دلانا کہ تو میرا خالق ہے۔ کہ میری زندگی کا مقصد تیری راہ پر چلنا ہے۔ مجھے وہ ہمت دے، وہ یقین دے، کہ میں تیری مرضی کے مطابق زندگی گزار سکوں۔ تیری ہدایت میرے قدموں کی روشنی ہو۔ یسوع کے نام میں۔ آمین۔

یہ جوانی کا سفر ہے۔ یہ خدا کو یاد رکھنے کا آغاز ہے۔ یہ وہ صبح ہے، جب ہم اپنے خالق کی طرف مڑتے ہیں، اور وہ ہمیں اپنی آغوش میں لے لیتا ہے۔

✦ ✦ ✦