Chapter 9

بکھرے خواب

جو خواب اس نے اپنی محبوبہ کے ساتھ دیکھے تھے، وہ اب بکھر چکے ہیں۔ شاعر ان بکھرے ٹکڑوں کو سمیٹنے کی ناکام کوشش کرتا ہے۔

7 min read

یادوں کا سایہ، خوابوں کی دنیا، بے چین راتیں، خاموش سوال، امید کی کرن، پہلی ناکامی، تنہائی کا عذاب، درد کی گہرائی، اور اب بکھرے خواب۔ یہ سب ایک سفر کے سنگ میل تھے، ایک ایسے سفر کے جس کی منزل کبھی نظر نہ آئی، اور جس کا راستا ہمیشہ کانٹوں سے بھرا رہا۔ شاعر، جس کا دل محبت کے رنگوں سے سجا تھا، اب ان رنگوں کو بکھرتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ اس کے دیکھے ہوئے سنہرے خواب، جن میں اس کی محبوبہ کا چہرہ روشن تھا، اب دھندلی یادوں میں کھو رہے تھے۔ وہ ان بکھرے ہوئے خوابوں کے ٹکڑوں کو سمیٹنے کی کوشش کر رہا تھا، جیسے کوئی بچہ ٹوٹے ہوئے کھلونے کو جوڑنے کی ناکام کوشش کرتا ہے۔

اس کے کمرے کی دیواروں پر اس کی محبوبہ کی تصویریں آویزاں تھیں۔ ہر تصویر میں وہ ایک مختلف انداز میں مسکرا رہی تھی، ایک مختلف کہانی سنا رہی تھی۔ شاعر ان تصویروں کو دیکھتا، اور اس کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے۔ وہ ان تصویروں سے مخاطب ہوتا، جیسے وہ ابھی بھی اس کے سامنے موجود ہو۔

"تم کہاں ہو؟" وہ پوچھتا، اس کی آواز میں درد کی لہریں اٹھتی تھیں۔ "میں تمہیں بہت یاد کرتا ہوں۔ کیا تم بھی مجھے یاد کرتی ہو؟"

Keep reading "بکھرے خواب"

The full chapter is in the AIBookCraft app — free to read, with your spot saved.

Free on iOS & Android · No signup to read