Chapter 8
درد کی گہرائی
شاعر کے دل کا درد شدت اختیار کر جاتا ہے۔ وہ اس درد کو محسوس کرتا ہے اور اسے سہنے کی کوشش کرتا ہے۔ غم اس کی ذات کا حصہ بن جاتا ہے۔
آنکھیں بند تھیں، مگر منظر ایسا تھا جیسے کوئی فلم چل رہی ہو۔ وہ منظر جو اس کے دل و دماغ پر نقش ہو چکا تھا۔ وہ اب بھی وہیں کھڑا تھا، اس ویران ساحل پر، جہاں لہریں اس کے قدموں کو چھو کر لوٹ جاتی تھیں۔ ہوا میں نمک کی گہری بو تھی، اور اس بو میں اس کی محبوبہ کی خوشبو کی ایک مدھم سی جھلک۔ وہ اسے پکارتا تھا، اس کی آواز لہروں میں گم ہو جاتی، اور جواب میں صرف سمندر کی بے رحم گرج سنائی دیتی۔
وہ جانتا تھا کہ یہ سب محض یادیں ہیں، وہ خود کو سمجھانے کی کوشش کرتا۔ مگر دل تھا کہ مانتا ہی نہیں۔ ہر یاد ایک خنجر کی طرح سینے میں اتر جاتی۔ اس کی جدائی نے اس کی زندگی میں ایک ایسا خلا پیدا کر دیا تھا جسے کوئی اور چیز پر نہیں کر سکتی تھی۔ وہ اس خلا کو بھرنے کے لیے بہت بھاگا، بہت چیخا، مگر ہر بار وہ اور زیادہ تنہائی میں گر گیا۔
یہ درد، جو کبھی ایک ہلکی سی چبھن تھا، اب ایک گہرا، مستقل زخم بن چکا تھا۔ یہ زخم اب جسم کا حصہ بن گیا تھا، اس کی روح میں اتر گیا تھا۔ وہ اسے محسوس کرتا، ہر سانس کے ساتھ، ہر دھڑکن کے ساتھ۔ یہ درد اس کی شناخت بن چکا تھا۔ وہ اب وہ شاعر نہیں رہا تھا جو رنگوں اور خوشبوؤں کی باتیں کرتا تھا۔ وہ اب وہ شخص تھا جو صرف درد کو جانتا تھا، اور درد کو محسوس کرتا تھا۔
Keep reading "درد کی گہرائی"
The full chapter is in the AIBookCraft app — free to read, with your spot saved.
Free on iOS & Android · No signup to read