Chapter 7

تنہائی کا عذاب

محبوبہ کے جانے کے بعد تنہائی شاعر کا مستقل ساتھی بن جاتی ہے۔ یہ تنہائی اسے ہر طرف سے گھیر لیتی ہے اور اسے مزید اداس کر دیتی ہے۔

6 min read

تنہائی کا عذاب

ہوا چلی تو پتے سرسرا اٹھے، اور ان کی سرسراہٹ میں وہ گہری اداسی تھی جس نے شاعر کے دل کو گھیر رکھا تھا۔ محبوبہ کے جانے کے بعد، اس کی دنیا ایک ایسے صحرا میں بدل گئی تھی جہاں ہر طرف خاموشی اور ویرانی تھی۔ تنہائی، جو پہلے ایک مہمان تھی، اب ایک مستقل مکین بن چکی تھی۔ وہ اس کے کمرے کے ہر کونے میں بسی تھی، اس کی سانسوں میں شامل تھی، اور اس کی آنکھوں کے سامنے ہر لمحہ رقص کرتی تھی۔

شاعر اب تنہا رہ گیا تھا۔ وہ کمرہ جہاں کبھی ہنسی گونجتی تھی، اب صرف اس کی اپنی آہٹوں سے بھرا تھا۔ دیواروں پر لگی تصویریں، جو کبھی خوشیوں کی گواہ تھیں، اب صرف اس کی ناکامیوں کا مذاق اڑاتی لگتی تھیں۔ اس نے کئی بار کوشش کی کہ وہ ان یادوں سے نکل جائے، کہ وہ اس تنہائی کو دور کر دے، لیکن ہر کوشش اسے مزید گہرائی میں لے جاتی۔

Keep reading "تنہائی کا عذاب"

The full chapter is in the AIBookCraft app — free to read, with your spot saved.

Free on iOS & Android · No signup to read