Chapter 20

مکمل سکون

آخرکار، شاعر اپنی ناکامی کو مکمل طور پر قبول کر لیتا ہے۔ شاعری کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کرنے سے اسے ایک قسم کا سکون مل جاتا ہے۔

8 min read

کمرے میں شام کی دھندلی روشنی پھیل رہی تھی۔ پردے ہوا میں آہستہ آہستہ جھول رہے تھے، جیسے کسی گہری سانس کا اثر ہو۔ شاعر اپنی کرسی پر بیٹھا تھا، آنکھیں کھلی تھیں مگر نگاہیں کہیں اور تھیں۔ میز پر بکھرے کاغذات، قلم اور ان پر لکھی ادھوری نظمیں اس کی کئی راتوں کی بے خوابی کی گواہی دے رہی تھیں۔ باہر گلی میں بچوں کے کھیل کا شور تھا، جو اس کے اندر کے سناٹے کو مزید گہرا کر رہا تھا۔ وہ مدتوں سے اسی حالت میں تھا۔ ایک ایسی حالت جہاں ماضی کی گونج حال پر حاوی تھی اور مستقبل ایک دھندلا سا منظر جو نظر نہیں آتا تھا۔

اس نے ہاتھ بڑھا کر ایک کاغذ اٹھایا۔ اس پر اس کی محبوبہ کا نام لکھا تھا۔ نام دیکھتے ہی دل میں ایک تیز لہر اٹھی، پرانی یادوں کا طوفان امڈ آیا۔ وہ دن جب پہلی بار اس نام کو پکارا تھا۔ وہ دن جب اس نام میں ساری کائنات سمٹ آتی تھی۔ مگر اب؟ اب وہ نام صرف ایک زخم تھا، ایک ایسی یاد جو ہر بار تازہ ہو کر اسے لہو لہو کر جاتی۔

اس نے کاغذ کو مٹھی میں بھینچ لیا۔ انگلیاں سفید ہو گئیں، جیسے وہ اس نام کو مٹا دینا چاہتا ہو۔ مگر کیونکر؟ یہ نام تو اس کی شناخت کا حصہ بن چکا تھا۔ اس کی ناکام محبت اس کی زندگی کا وہ سچ تھا جس سے وہ بھاگ نہیں سکتا تھا۔ وہ بھاگا، بہت بھاگا۔ اس نے راستے بدلے، شہر بدلے، یہاں تک کہ خود کو بدلنے کی کوشش کی۔ مگر محبوبہ کی یاد اس کے ساتھ ایسے چپک گئی تھی جیسے سایہ۔

Keep reading "مکمل سکون"

The full chapter is in the AIBookCraft app — free to read, with your spot saved.

Free on iOS & Android · No signup to read