Chapter 19
فن میں بقا
شاعر اپنی ناکام محبت کو اپنی شاعری کے ذریعے امر کر دیتا ہے۔ اس کی محبت اگرچہ ناکام رہی، مگر اس کی یادیں فن میں زندہ ہو جاتی ہیں۔
فن میں بقا
رات کی گہری چادر نے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ سڑکوں پر سناٹا چھایا تھا اور دور کہیں سے کسی گاڑی کے گزرنے کی آواز اس خاموشی کو چیرتی ہوئی گزر جاتی۔ شاعر، جو اب تک اپنی کتابوں کے ڈھیر میں گم تھا، اچانک اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی، جیسے کسی گہری کھوج کے بعد کوئی موتی ہاتھ آ گیا ہو۔ اس کی ناکام محبت، جو اب تک اس کے دل و دماغ پر ایک بوجھ بنی ہوئی تھی، اب ایک نئی صورت اختیار کر رہی تھی۔ وہ اسے محض ایک دردناک یاد کے طور پر نہیں دیکھ رہا تھا، بلکہ ایک ایسی قوت کے طور پر محسوس کر رہا تھا جو اسے تخلیق کی طرف دھکیل رہی تھی۔
اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ تاریکی میں ڈوبا ہوا منظر اس کے اندر کی کیفیت کا عکاس تھا۔ محبوبہ کی یادیں، جو پہلے اسے بے چین کرتی تھیں، اب اس کے لیے ایک گہرا سمندر بن گئی تھیں جس کی تہہ میں وہ اترنا چاہتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ وہ محبت، جس کی خاطر اس نے اپنا سب کچھ قربان کر دیا تھا، ناکام ہو گئی تھی۔ وہ پلٹ کر نہیں آنے والی تھی۔ وہ زندگی کی شاہراہ پر کسی اور کے ساتھ، کسی اور منزل کی طرف رواں دواں تھی۔ لیکن اس کی جدائی نے شاعر کو تنہا نہیں چھوڑا تھا۔ اس نے اسے ایک نیا راستہ دکھایا تھا؛ فن کا راستہ۔
Keep reading "فن میں بقا"
The full chapter is in the AIBookCraft app — free to read, with your spot saved.
Free on iOS & Android · No signup to read