Chapter 18

یادوں کا تسلسل

شاعر اپنی محبوبہ کی یادوں سے مکمل طور پر آزاد نہیں ہو پاتا، لیکن اب وہ ان یادوں کو اپنی شاعری کے ذریعے زندہ رکھتا ہے۔

6 min read

یادوں کا تسلسل

رات کی چادر میں لپٹا شہر دم بخود سو رہا تھا۔ ہر طرف خاموشی کا راج تھا، سوائے شاعر کے کمرے کے جہاں ایک ننھی سی قندیل کے ارد گرد وہ تنہا بیٹھا تھا۔ اس کی آنکھیں گہری اور اداس تھیں، ان میں وہ تمام رنگ سمٹے ہوئے تھے جو محبوبہ کی جدائی نے چھینے تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب دنیا اپنی نیند میں گم ہوتی تھی اور شاعر کی روح بیدار ہو کر ماضی کے دریچوں میں جھانکتی تھی۔

وہ اپنی محبوبہ کی گلی سے گزر رہا تھا، اس کی یادوں کی گلی۔ ہر قدم پر ایک پتھر، ہر پتھر پر ایک یاد۔ وہ پتھر جن پر کبھی وہ دونوں ساتھ بیٹھا کرتے تھے، وہ دیواریں جن پر اس نے کبھی اس کا نام کندہ کیا تھا۔ آج وہ سب اجنبی لگ رہے تھے، جیسے اس کی کہانی کا حصہ ہونے سے انکار کر رہے ہوں۔ یہ گلی اب صرف یادوں کا تسلسل تھی، ایک ایسا سفر جس کا کوئی اختتام نہیں تھا۔

Keep reading "یادوں کا تسلسل"

The full chapter is in the AIBookCraft app — free to read, with your spot saved.

Free on iOS & Android · No signup to read