Chapter 16
درد میں زندگی
شاعر کی زندگی اب درد اور محبت کے گرد گھومتی ہے۔ وہ اس درد کو اپنی شناخت بنا لیتا ہے اور اس میں جینا سیکھتا ہے۔
یوں تو زندگی کا سفر مسلسل رواں دواں رہتا ہے، لمحے پلک جھپکتے گزر جاتے ہیں اور سال مہینوں میں اور مہینے دنوں میں بدل جاتے ہیں۔ مگر شاعر کی زندگی میں وقت کی رفتار کچھ اور تھی۔ اس کے لیے ہر لمحہ ایک مستقل ٹھہراؤ کا نام تھا، ایک ایسا ٹھہراؤ جو اس کے دل میں موجود درد سے جنم لیتا تھا۔ اب وہ درد محض ایک احساس نہیں رہا تھا، بلکہ اس کی ذات کا حصہ بن چکا تھا۔ اس کی صبحیں اسی درد کے گرد گھومتی تھیں اور راتیں اسی درد کی گود میں سوتی تھیں۔
شاعر کی آنکھیں وہ منظر دیکھتی تھیں جو کسی اور کو نظر نہیں آتا تھا۔ دنیا کی ہنگامہ آرائیوں، خوشیوں اور غموں کے رنگ اس کے لیے بے معنی ہو چکے تھے۔ اس کی دنیا سمٹ کر اس ایک ناممکن محبت کے گرد گھوم رہی تھی، جس کا حصول اسے کبھی نصیب نہیں ہونا تھا۔ یہ احساس اب کوئی نیا نہیں تھا، بلکہ اس نے اسے اپنی شناخت بنا لیا تھا۔ وہ خود کو اس درد کا مجسمہ سمجھنے لگا تھا۔ وہ درد جو اس کے سینے میں پنہاں تھا، جو اس کی سانسوں میں شامل تھا، جو اس کے خون میں دوڑ رہا تھا۔
اس نے اپنی زندگی کو اس درد کے ساتھ جینا سیکھ لیا تھا۔ یہ سیکھنا کوئی آسان مرحلہ نہیں تھا۔ یہ وہ راستہ تھا جس پر چلنے کے لیے بہت حوصلہ اور ہمت درکار تھی۔ اس نے اپنی تنہائی کے لمحوں میں، اپنی اداس راتوں میں، اسی درد کو اپنا ساتھی بنایا تھا۔ وہ اس کی خاموش زبان بن گیا تھا۔ وہ اس کی آنکھوں سے بہنے والے آنسوؤں کی کہانی سناتا تھا۔ وہ اس کے دل کی گہرائیوں میں چھپے دکھ کو الفاظ کا جامہ پہناتا تھا۔
Keep reading "درد میں زندگی"
The full chapter is in the AIBookCraft app — free to read, with your spot saved.
Free on iOS & Android · No signup to read