Chapter 15

انتظار کا موسم

شاعر اپنی محبت کا انتظار کرتا ہے، ایک ایسے انتظار میں جو شاید کبھی ختم نہ ہو۔ یہ انتظار اس کی زندگی کا ایک اہم حصہ بن جاتا ہے، جو اسے صبر سکھاتا ہے۔

7 min read

یہ وہ موسم تھا جب انتظار کے رنگ گہرے ہو جاتے تھے، اور دل کی گہرائیوں میں ایک خاموش صدا گونجتی تھی۔ شاعر، اپنی تنہائی کے صحرا میں، ایک ایسے سراب کی تلاش میں تھا جو شاید کبھی حقیقت نہ بن سکے۔ اس کی نگاہیں دور افق پر ٹکی رہتیں، جہاں اسے محبت کا وہ چہرہ نظر آتا تھا جو ہمیشہ دھندلا سا رہتا، جو کبھی واضح نہ ہوتا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ انتظار، شاید اس کی زندگی کا سب سے طویل سفر ہے، ایک ایسا سفر جس کی منزل نامعلوم ہے، مگر جس کا راستہ اس نے خود چنا ہے۔

وہ اکثر شام کے وقت، شہر کے شور سے دور، کسی خاموش کونے میں بیٹھ جاتا۔ اس کے ہاتھ میں ایک پرانی ڈائری اور ایک پنسل ہوتی، مگر الفاظ اکثر اس کے لبوں پر آ کر رک جاتے، جیسے راستے میں کوئی پگڈنڈی گم ہو گئی ہو۔ وہ سمندر کی لہروں کو دیکھتا، جو ساحل سے ٹکرا کر واپس چلی جاتی تھیں، جیسے کوئی ادھوری خواہش جو لوٹ آنے پر مجبور ہو۔ کیا اس کی محبت بھی ایسی ہی تھی؟ ایک ایسی لہر جو ساحل تک پہنچ تو جاتی، مگر اس کی مٹھی میں کبھی نہ ٹھہرتی؟

ایک شام، جب سورج سمندر میں ڈوب رہا تھا اور آسمان پر سرخ و نارمل رنگوں کی حکمرانی تھی، وہ ایک پرانی عمارت کی چھت پر کھڑا تھا۔ نیچے شہر کی روشنیاں جگمگا رہی تھیں، مگر اس کی دنیا اس روشنی سے بہت دور تھی۔ وہ اس کے بارے میں سوچ رہا تھا، اس کے بارے میں جس کا نام اس نے اپنی زبان پر لانا چھوڑ دیا تھا۔ اس کا نام اب اس کے دل میں ایک گہرا راز بن چکا تھا، ایک ایسا راز جس کی بازگشت اسے تنہائیوں میں سنائی دیتی تھی۔

Keep reading "انتظار کا موسم"

The full chapter is in the AIBookCraft app — free to read, with your spot saved.

Free on iOS & Android · No signup to read