Chapter 14
بے نام رشتہ
یہ رشتہ نام کا نہیں، مگر احساسات کا ہے۔ شاعر اس بے نام رشتے کی گہرائیوں میں کھویا رہتا ہے۔ یہ وہ تعلق ہے جو کبھی وجود میں نہیں آ سکا۔
عنوان: بے نام رشتہ
وہ رشتہ جو نام کا نہیں، فقط احساس کا تھا۔ وہ دھاگہ جو نظر نہیں آتا تھا، مگر دل کی گہرائیوں میں جڑا تھا۔ شاعر اسی بے نام رشتے کی گہرائیوں میں کھویا رہتا تھا۔ یہ وہ تعلق تھا جو کبھی وجود میں آ ہی نہیں سکا، مگر اس کے دل میں اس کی جڑیں اس قدر مضبوط تھیں کہ وہ ان کے بغیر اپنی زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔
رات کا اندھیرا چھایا ہوا تھا، اور آسمان پر تارے موتیوں کی طرح بکھرے ہوئے تھے۔ شاعر اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس بیٹھا، باہر کے اندھیرے کو تک رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک قلم تھا، اور سامنے ایک خالی کاغذ۔ مگر آج قلم چل نہیں رہا تھا۔ الفاظ کہیں گم ہو گئے تھے، جذبات جیسے تھم سے گئے تھے۔ وہ سوچ رہا تھا، اس رشتے کے بارے میں جو نام کا نہیں، مگر اس کے وجود کا حصہ بن چکا تھا۔
Keep reading "بے نام رشتہ"
Open the same story in AIBookCraft. Later chapters may require an active subscription.
Free on iOS & Android · No signup to read