Chapter 5
امید کی کرن
ایک لمحے کے لیے شاعر کو امید جاگتی ہے کہ شاید محبوبہ لوٹ آئے۔ وہ اس کی واپسی کا انتظار کرتا ہے، مگر یہ امید جلد ہی دم توڑ دیتی ہے۔
یہ ایک لمحہ تھا، ایک ایسا لمحہ جو وقت کی لکیر پر ایک ننھے سے ابھار کی طرح نمودار ہوا، جس نے شاعر کی اداس دنیا میں ایک ہلکی سی جنبش پیدا کر دی۔ اس کی آنکھیں، جو اب تک اداسی کی گہری جھیل میں ڈوبی ہوئی تھیں، اچانک ایک ان دیکھی روشنی کی طرف اٹھیں۔ یہ ایک سراب تھا، ایک دھوکہ، یا شاید ایک ایسی امید کی کرن جو اس کی تنہائی کے اندھیرے کو چیڑ کر اس کے دل میں اتر آئی تھی۔
اس نے محسوس کیا، یا یوں کہیے کہ اس نے خود کو محسوس کرنے پر مجبور کیا، کہ ہوا میں ایک خوشبو تیر رہی ہے۔ وہی خوشبو، جو برسوں پہلے اس کی محبوبہ کے آنچل سے لپٹی ہوئی اس کے دل و دماغ پر چھا جاتی تھی۔ یہ خوشبو، جو مدتوں سے اس کی یادوں کے گودام میں بند تھی، آج اچانک اس کے آس پاس پھیل گئی۔ اس کی سانسیں تیز ہو گئیں، اس کے سینے میں دھڑکنیں بے ترتیب ہو گئیں، گویا کوئی پرانا، بھولا ہوا گیت دوبارہ بجنے لگا ہو۔
"کیا وہ لوٹ آئی ہے؟" اس کے ہونٹوں سے یہ سوال ایک سرگوشی کی صورت نکلا، ایک ایسی سرگوشی جو خود اس کے لیے بھی حیران کن تھی۔ اس نے اپنی آنکھیں زور سے بند کیں، جیسے وہ اس لمحے کو، اس احساس کو، اپنی گرفت میں لینا چاہتا ہو۔ اس کی انگلیوں نے بے ارادہ ہی اپنی قمیض کے کالر کو پکڑا، جیسے وہ اس خوشبو کو، اس احساس کو، اپنے اندر جذب کرنا چاہتا ہو۔
Keep reading "امید کی کرن"
The full chapter is in the AIBookCraft app — free to read, with your spot saved.
Free on iOS & Android · No signup to read