Chapter 3

بے چین راتیں

راتیں جاگتے ہوئے گزرتی ہیں۔ شاعر اپنی محبوبہ کے بغیر تنہائی سے لڑتا ہے۔ ہر لمحہ اس کی یاد ستاتی ہے اور دل کو بے قرار رکھتی ہے۔

8 min read

تیسرا باب: بے چین راتیں

آسمان پر تاروں کا ہجوم تھا، ہر ستارہ ایک ننھا سا دیپ جو اندھیرے میں روشنی پھیلا رہا تھا۔ لیکن شاعر کی دنیا میں اندھیرا گہرا تھا، اور یہ ستارے اس کے دل کی ویرانی کو مزید نمایاں کر رہے تھے۔ رات کا پہر تھا، وہ پہر جب دنیا سو جاتی ہے اور انسان اپنے اندر کی گہرائیوں میں اتر جاتا ہے۔ مگر شاعر کے لیے یہ سکون کا وقت نہیں تھا۔ اس کی راتیں جاگتے ہوئے گزرتی تھیں، بے چینی اور اداسی کے جال میں الجھی ہوئی۔

وہ بستر پر کروٹیں بدل رہا تھا۔ دیوار پر پڑتی چاند کی دھندلی روشنی اس کے چہرے پر عجیب سے نقوش بنا رہی تھی۔ آنکھیں کھلی تھیں، مگر ان میں نیند کا نام و نشان نہ تھا۔ ہر لمحہ، ہر سانس، اس کی یادوں کا ایک نیا طوفان اٹھا رہا تھا۔ وہ یادیں جو کبھی میٹھی ہوا کا جھونکا بن کر آتی تھیں، اب کانٹے کی طرح دل میں چبھتی تھیں۔

"کاش تم یہاں ہوتیں،" اس نے انگڑائی لیتے ہوئے کہا، مگر اس کی آواز میں کوئی جان نہ تھی۔ یہ محض ایک صدا تھی جو خاموشی کو چیر کر واپس اسی کے اندر لوٹ آئی۔ تنہائی اس کے ارد گرد ایک ٹھنڈی چاک کی لکیر کھینچ چکی تھی، جس سے نکلنا اسے ناممکن لگ رہا تھا۔ کمرے میں چاندنی کے سوا کچھ نہ تھا۔ وہ چاندنی جو کبھی اس کی محبوبہ کی آنکھوں کی چمک کا استعارہ تھی، اب اس کے دل میں ایک مستقل اداسی کی علامت بن گئی تھی۔

اس نے اٹھ کر کھڑکی کا رخ کیا۔ سرد ہوا کا ایک جھونکا اس کے چہرے سے ٹکرایا، جیسے کوئی پرانا دوست اس کی حالت پر رحم کھا رہا ہو۔ مگر یہ ہمدردی بھی اسے سکون نہ دے سکی۔ اس نے دور افق پر نظریں جمائیں۔ شہر سو رہا تھا، مگر اس کے دل میں ایک قیامت برپا تھی۔

"کہاں ہو تم؟" اس نے پھر خود سے پوچھا۔ یہ سوال اس کے لبوں پر اکثر آ جاتا تھا، مگر اس کا جواب کہیں نہ تھا۔ وہ کہیں دور چلی گئی تھی، اتنی دور کہ اس کی آواز وہاں تک پہنچ نہ سکتی تھی۔ وہ ہوا میں تحلیل ہو گئی تھی، یا شاید ستاروں میں کہیں گم ہو گئی تھی۔

اسے یاد آیا جب وہ پہلی بار اس سے ملا تھا۔ وہ ایک شام تھی، جب پھول اپنے پورے شباب پر تھے اور ہوا میں خوشبو بسی تھی۔ اس کی آنکھوں میں ایک ایسی کشش تھی جو اسے اپنی طرف کھینچ لائی۔ وہ ایک خواب تھی، جو حقیقت بن کر اس کی زندگی میں آئی تھی۔ مگر خواب ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتے۔

اس نے انگلیوں سے کھڑکی کے شیشے پر ایک نام لکھا، جو ہوا سے اڑ گیا۔ اس کا نام۔ وہ نام جو اس کے دل میں نقش ہو چکا تھا۔ وہ نام جو اب اسے ہر جگہ نظر آتا تھا، ہر آواز میں سنائی دیتا تھا۔

"تم سوچتی ہوگی کہ میں پاگل ہو گیا ہوں،" اس نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا۔ "مگر تم نہیں جانتیں کہ تنہائی کیا ہوتی ہے۔ یہ وہ اندھیرا ہے جو روشنی کو نگل جاتا ہے۔ یہ وہ خاموشی ہے جو کانوں میں شور مچاتی ہے۔"

اسے وہ راتیں یاد آتی تھیں جب وہ دونوں ملتے تھے۔ وہ چھت پر بیٹھ کر ستاروں کو گنتے تھے۔ وہ اس کی باتیں سنتا، اور وہ مسکراتی رہتی۔ اس کی ہنسی میں ایک ایسی مٹھاس تھی جو دنیا کی ہر تلخی کو دور کر دیتی تھی۔ مگر اب وہ ہنسی کہاں تھی؟ وہ مسکراہٹ کہاں تھی؟

اس نے کمرے میں چکر لگانا شروع کیا۔ ہر چیز اسے اس کی یاد دلا رہی تھی۔ اس کی کتابیں، اس کی تصویریں (جو اس نے کبھی نہیں کھینچوائیں تھیں)، اس کے لیے لکھی ہوئی نظمیں جنہیں وہ کبھی سنا نہ سکا۔ سب کچھ ادھورا تھا۔ سب کچھ بے معنی۔

"میں تمھیں واپس لانا چاہتا تھا،" اس نے خود سے کہا۔ "میں نے کوشش کی، مگر تم نے میری آواز سنی ہی نہیں۔ یا شاید سنی، مگر سنی ان سنی کر دی۔"

اسے وہ دن یاد آیا جب اس نے اسے آخری بار دیکھا تھا۔ وہ ایک مصروف سڑک پر کھڑی تھی، اور اس کے ارد گرد لوگوں کا ہجوم تھا۔ اس نے اسے پکارا، مگر اس کی آواز اس شور میں دب گئی۔ وہ اسے دیکھ کر صرف مسکرائی، اور پھر کسی اور کی طرف متوجہ ہو گئی۔ وہ مسکراہٹ اتنی بے پرواہ تھی، اتنی انجان کہ اس کے دل میں ایک ٹھنڈی لہر دوڑ گئی۔ اسے احساس ہو گیا تھا کہ وہ اس کی دنیا سے بہت دور جا چکی ہے۔

"میں نے سوچا شاید یہ ایک خواب ہے،" اس نے آنکھیں موند لیں۔ "میں نے سوچا جب میں جاگوں گا تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ مگر یہ حقیقت تھی، اور یہ حقیقت مجھے ہر روز توڑ رہی تھی۔"

اس نے اپنے ہاتھ کی مٹھی بھینچی۔ اس کے ناخن ہتھیلی میں گڑ گئے۔ مگر اسے درد محسوس نہ ہوا۔ اس کے دل کا درد اتنا گہرا تھا کہ جسمانی درد اس کے سامنے ہیچ تھا۔

"تمہاری دنیا الگ تھی،" اس نے سوچا۔ "تم آزاد پرندے کی طرح اڑنا چاہتی تھی۔ اور میں؟ میں تو بس ایک پنجرے کا پرندہ تھا۔ جو تمہیں دیکھ کر اپنے لیے بھی وہی آزادی چاہتا تھا۔"

رات گہری ہوتی جا رہی تھی۔ شہر کی خاموشی اب ایک گہرا سکوت بن گئی تھی۔ مگر شاعر کی رات ابھی باقی تھی۔ وہ اٹھا اور اپنی میز پر جا بیٹھا۔ سامنے ایک کاغذ پڑا تھا۔ قلم بھی وہیں تھا۔ اس نے قلم اٹھایا، مگر اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔

"کیا لکھوں؟" اس نے پوچھا۔ "اس درد کو کیسے بیان کروں؟ اس تنہائی کو کیسے الفاظ میں ڈھالوں؟"

اسے یاد آیا کہ اس نے پہلے بھی لکھنے کی کوشش کی تھی۔ مگر ہر بار وہ الفاظ اس کے ہاتھ سے نکل جاتے تھے۔ وہ اس کی یادوں کی چادر میں لپٹ جاتے، اور اسے لکھنے نہیں دیتے۔

اس نے قلم کو کاغذ پر رکھا۔ ایک لرزتی ہوئی لکیر بن گئی۔ پھر دوسری۔ اور پھر تیسری۔ وہ کچھ لکھ رہا تھا۔ مگر کیا لکھ رہا تھا، اسے خود بھی معلوم نہ تھا۔

"میں تم سے محبت کرتا تھا،" اس نے لکھنا شروع کیا۔ "اور آج بھی کرتا ہوں۔ مگر میری محبت ناکام ہو گئی۔"

یہ پہلا جملہ تھا جو اس کے دل سے نکلا تھا۔ ایک ایسا جملہ جو اس کی ساری کہانی بیان کر رہا تھا۔ اس نے لکھنا جاری رکھا۔ الفاظ بہنے لگے، جیسے وہ برسوں سے بندھے ہوئے تھے اور اب انہیں آزادی مل گئی تھی۔

"تم ایک خواب تھی، جو میری آنکھوں کے سامنے بکھر گیا۔ تم ایک شام تھی، جو میری رات بن گئی۔ تم ایک خوشبو تھی، جو ہوا میں تحلیل ہو گئی۔"

اس نے اپنی محبوبہ کی خوبصورتی کا ذکر کیا۔ اس کی آنکھوں کا، اس کی ہنسی کا، اس کی آواز کا۔ مگر یہ سب بیان کرتے ہوئے اس کے دل میں ایک درد اٹھ رہا تھا۔ یہ خوبصورتی اب اس کے لیے صرف یادوں کا ایک تسلسل تھی۔

"میں نے تمہیں پانے کی بہت کوشش کی۔ میں نے راستے بدلے، میں نے وقت بدلا، میں نے خود کو بدلا۔ مگر تم وہیں کی وہیں رہیں۔ جیسے ایک پتھر کی مورتی، جسے کوئی حرکت نہیں۔"

اس نے اپنی ناکامی کی وجہ بیان کرنے کی کوشش کی۔ کیا وہ خود میں کچھ کمی تھی؟ یا اس کی محبوبہ کی فطرت ہی ایسی تھی؟ وہ آزاد پرندے کی طرح اڑنا چاہتی تھی، اور وہ اسے پنجرے میں بند کرنا چاہتا تھا۔ شاید یہی فرق تھا جو انہیں ہمیشہ کے لیے جدا کر گیا۔

"میری راتیں اب تمہارے بغیر جاگتے ہوئے گزرتی ہیں۔ ہر لمحہ تمہاری یاد مجھے بے قرار رکھتی ہے۔ یہ تنہائی مجھے کھائے جا رہی ہے۔"

اس نے اپنی تنہائی کو بیان کیا۔ وہ ٹھنڈی، خاموش، اور مستقل تنہائی جو اس کی زندگی کا حصہ بن گئی تھی۔ وہ تنہائی جس نے اسے شاعر بنا دیا تھا۔

"مگر میں اب ہار نہیں مانوں گا۔" اس نے قلم کو مضبوطی سے پکڑا۔ "میں اس درد کو، اس ناکامی کو اپنی شاعری میں زندہ کروں گا۔ میں اسے امر کر دوں گا۔"

یہ اس کا نیا عزم تھا۔ وہ اپنی ناکامی کو چھپانا نہیں چاہتا تھا۔ وہ اسے دنیا کے سامنے لانا چاہتا تھا۔ اپنی شاعری کے ذریعے، وہ اپنی محبت کی گہرائی، اپنے درد کی شدت، اور اپنی تنہائی کی وسعت کو بیان کرنا چاہتا تھا۔

"میری نظمیں تمہاری یادوں کا تسلسل ہوں گی۔ میری غزلیں تمہارے نام ہوں گی۔ میری ہر تحریر تمہارے لیے ایک خراج عقیدت ہو گی۔"

اس نے رات بھر لکھا۔ قلم کی سیاہی کاغذ پر بہتی رہی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بھی بہتے رہے، مگر ان آنسوؤں میں اب غم سے زیادہ ایک نئی امید تھی۔ ایک نئی طاقت۔

صبح کی پہلی کرن جب اس کے کمرے میں داخل ہوئی، تو وہ تھکا ہوا مگر مطمئن تھا۔ اس کے سامنے کاغذوں کا انبار تھا۔ اس کی ناکام محبت، اس کی بے چین راتیں، اس کی تنہائی۔ سب کچھ اب الفاظ کی صورت میں موجود تھا۔

اس نے ایک لمبی سانس لی۔ رات کی بے چینی اب ایک سکون میں بدل گئی تھی۔ اس نے اپنی ناکام محبت کو قبول کر لیا تھا۔ اور اسے اپنی شاعری میں زندہ کر کے، اسے ایک نیا انجام دے دیا۔ ایک ایسا انجام جو ہمیشہ کے لیے قائم رہے گا۔ وہ اب محض ایک ناکام عاشق نہ تھا۔ وہ ایک شاعر تھا، جس نے اپنی ناکام محبت کو امر کر دیا تھا۔ اس کی محبت اب صرف اس کی نہ رہی، بلکہ اس کی شاعری کے ذریعے، وہ سب کی ہو گئی۔

✦ ✦ ✦