Chapter 15

تنہائی کی صدا

اس کی شاعری میں تنہائی کی صدا گونجتی ہے۔ وہ تنہائی کو اپنی تخلیق کا حصہ بناتا ہے اور اسے امر کر دیتا ہے۔

8 min read

وہ تنہائی، جو اب تک اس کے وجود کی گہرائیوں میں چھپی ایک خاموش چیخ تھی، اب اس کی شاعری میں آواز پا رہی تھی۔ شاعر نے اپنی قلم کو تھاما، اس کی انگلیاں لرز رہی تھیں، مگر ان میں ایک عزم تھا جو پہلے کبھی نظر نہیں آیا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ وہ اس درد کو، اس اداسی کو، جو اس کے دل و دماغ پر راج کر رہی تھی، الفاظ کا جامہ پہنائے۔

آج کی رات معمول سے مختلف تھی۔ کمرے میں پھیلی خنکی میں صرف ہوا کا سرد جھونکا نہیں تھا، بلکہ ایک گہری، وجودی تنہائی کا احساس تھا۔ چاند کی پھیکی روشنی کھڑکی سے اندر جھانک رہی تھی، اور بکھرے کاغذات پر ایک اداس چاندنی پھیلا رہی تھی۔ وہ کاغذات، جن پر اس نے اپنے دل کا حال لکھنا شروع کیا تھا، اب اس کی ناکام محبت کی گواہی دے رہے تھے۔

اس نے ایک گہرا سانس لیا۔ وہ لمحہ جب اس نے پہلی بار اسے دیکھا تھا، آج بھی اس کی آنکھوں کے سامنے تھا۔ وہ باغ، وہ پھول، وہ ہوا میں اڑتی اس کی زلفیں… سب کچھ جیسے کل کی بات ہو۔ مگر پھر وقت نے کروٹ بدلی، اور وہ خواب، جو اتنے حسین تھے، وہ بکھر گئے۔ اس نے کوشش کی تھی، بہت کوشش کی تھی۔ اس نے اپنی محبت کا اظہار کیا، اپنی وفاداری کا وعدہ کیا، مگر وہ اسے سمجھ نہ سکی، یا شاید سمجھنا نہیں چاہتی تھی۔ اس کی خاموشی، اس کی دوری، اس کی بے اعتنائی… سب اس کے دل پر نشتر کی طرح لگے۔

Keep reading "تنہائی کی صدا"

The full chapter is in the AIBookCraft app — free to read, with your spot saved.

Free on iOS & Android · No signup to read