Chapter 13
الفاظ کا سہارا
شاعر اپنی ناکام محبت کے دکھ کو الفاظ کا سہارا دیتا ہے۔ وہ اپنی نظموں اور غزلوں میں اپنے دل کی بات لکھتا ہے، جو اس کا اظہار بن جاتی ہے۔
شاعر کی آنکھیں اس لمحے کھلی جب سورج کی پہلی کرن اس کے چہرے پر پڑی۔ رات کی تنہائی اور دن کی تنہائی میں کوئی فرق محسوس نہ ہوا۔ اس کے گرد و پیش وہی خاموشی تھی جو اس کے اندر گونج رہی تھی۔ وہ پھر سے وہیں تھا، یادوں کے اس بوجھ تلے دبا ہوا جو اس کی سانسوں کو روکے ہوئے تھا۔ محبوبہ کی صورت، اس کی ہنسی، اس کی آنکھیں، سب کچھ ایک دھندلی تصویر کی طرح اس کے ذہن میں گردش کر رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ صرف یادیں ہیں، مگر ان یادوں نے اس کی حقیقت کو اپنے حصار میں لے رکھا تھا۔
اس نے اٹھ کر کمرے کا جائزہ لیا۔ کتابیں،اقلام، کاغذات، سب وہیں پڑے تھے جہاں کل رات تھے۔ مگر آج ان میں وہ بے چینی نہیں تھی جو کل تھی۔ آج ایک عجیب سی سکون کی لہر اس کے دل میں دوڑ رہی تھی۔ یہ سکون مایوسی کا نہیں تھا، بلکہ ایک گہری سمجھ کا تھا۔ وہ سمجھ جو اسے اس ناکامی سے ملی تھی، اس درد سے ملی تھی جس نے اسے توڑ دیا تھا، مگر پھر اسے جوڑ بھی دیا تھا۔
وہ اٹھا اور کھڑکی کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا۔ باہر کی دنیا میں زندگی اپنی رفتار سے چل رہی تھی۔ لوگ اپنے کاموں میں مصروف تھے، ان کے چہروں پر وہ اداسی نہیں تھی جو اس کے چہرے کا مستقل حصہ بن چکی تھی۔ اسے ان لوگوں پر رشک آیا جو اپنی زندگیوں میں خوش تھے۔ مگر پھر اسے خیال آیا کہ ہر کسی کے اپنے دکھ ہوتے ہیں، اپنی ناکامیاں ہوتی ہیں۔ بس فرق یہ ہے کہ وہ انہیں کیسے بیان کرتے ہیں۔
Keep reading "الفاظ کا سہارا"
The full chapter is in the AIBookCraft app — free to read, with your spot saved.
Free on iOS & Android · No signup to read