Chapter 11

مایوسی کی انتہا

شاعر کو اب مکمل یقین ہو جاتا ہے کہ اس کی محبت کا کوئی انجام نہیں ہے۔ وہ اس تلخ حقیقت کو قبول کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

8 min read

دیواروں پر وقت کا دھندلا نقش، کمرے میں پھیلا اداس اجالا، اور ہوا میں وہ بو جو صدیوں کی خاموشی میں بسی تھی۔ شاعر، اپنے وجود کے اس بے کراں صحرا میں تنہا کھڑا تھا، جہاں امید کا آخری قطرہ بھی کب کا خشک ہو چکا تھا۔ وہ لمحہ آ پہنچا تھا جس کا اسے ڈر تھا، وہ تلخ حقیقت جس کا سامنا کرنے سے وہ اب تک گریزاں تھا۔ اس کی محبوبہ، وہ سایہ جو کبھی اس کی زندگی کا رنگ تھا، اب محض ایک ادھوری کہانی کا بے نام کردار بن کر رہ گئی تھی۔

اس نے اپنی آنکھیں بند کیں، تاکہ اس منظر سے بچ سکے جو اس کی آنکھوں کے سامنے بکھرا ہوا تھا۔ مگر بند آنکھوں میں تو منظر اور بھی واضح ہو گیا۔ وہ آج بھی اسے وہیں دیکھ رہا تھا، اسی چاندنی رات میں، اسی باغ میں، جہاں پہلی بار اس نے اس کے ہاتھ کو تھاما تھا۔ اس کی ہنسی کی گونج، اس کی آنکھوں کی چمک، اس کے بالوں کی خوشبو، سب کچھ جیسے ابھی کل کی بات ہو۔ مگر حقیقت اتنی سفاک تھی کہ اس کی سانسیں اٹکنے لگیں۔ وہ اب اس کے لیے نہیں تھی۔ اس کی دنیا میں اب اس کا کوئی مقام نہیں تھا۔

وہ اٹھا اور کمرے میں ٹہلنے لگا۔ اس کے قدموں کی آواز اس خاموشی میں گونج رہی تھی جو اس کے دل کی گہرائیوں میں اتر چکی تھی۔ اس نے میز پر پڑی اپنی پرانی ڈائری کو اٹھایا۔ وہی ڈائری جس میں اس نے اپنے دل کے ہر جذبے کو، ہر حسرت کو، ہر ادھورے خواب کو قید کیا تھا۔ اس کے صفحے اس کے آنسوؤں سے بھیگے ہوئے تھے، اس کی چیخوں سے گونج رہے تھے۔ مگر اب ان صفحات میں وہ شدت نہیں رہی تھی، وہ تڑپ نہیں رہی تھی۔ اب تو بس ایک ٹھنڈی، بے جان سی مایوسی تھی۔

Keep reading "مایوسی کی انتہا"

The full chapter is in the AIBookCraft app — free to read, with your spot saved.

Free on iOS & Android · No signup to read