Chapter 1

یادوں کا سایہ

شاعر اپنی محبوبہ کی یادوں میں گم ہے، ہر شے میں اس کا عکس نظر آتا ہے۔ دل میں اداسی اور بے بسی کا احساس گہرا ہوتا جا رہا ہے۔

7 min read

یادوں کا سایہ

خاموش رات کا سناٹا اس کے دل کی گہرائیوں میں اتر رہا تھا۔ چاروں طرف پھیلا اندھیرا، اس کے دل میں چھائے اندھیرے کا ہی ایک عکس تھا۔ وہ اپنی بالکونی میں کھڑا تھا، آسمان پر بکھرے تاروں کو گھور رہا تھا، جیسے ان میں اپنی محبوبہ کا چہرہ تلاش کر رہا ہو۔ ہر ٹمٹماتا ستارہ اسے اس کی آنکھوں کی چمک یاد دلا رہا تھا۔ ہوا کا ہر جھونکا اس کے کانوں میں اس کی آواز کی سرگوشی کر رہا تھا۔ ہر شے میں وہ تھی، اس کی یادوں کا سایہ ہر جگہ پھیلا ہوا تھا۔

یہ شام بھی دوسری شاموں کی طرح تھی، مگر آج اس کے دل پر اداسی کا بوجھ کچھ زیادہ تھا۔ وہ اپنی ناکام محبت کی یادوں میں اس طرح کھو گیا تھا کہ جیسے وقت وہیں ٹھہر گیا ہو۔ اس کی محبوبہ، جس کے لیے اس نے دنیا کی خوبصورتی کو سمیٹ کر ایک نظم میں ڈھالنے کی کوشش کی تھی، آج اس کے پاس نہیں تھی۔ وہ کہاں چلی گئی تھی؟ کیوں چلی گئی تھی؟ یہ سوالات اس کے ذہن میں طوفان کی طرح اٹھ رہے تھے، مگر ان کا کوئی جواب نہیں۔

اس نے اپنی انگلیوں سے بالکونی کی ٹھنڈی سل کو چھوا۔ وہ ٹھنڈک اس کے دل کی سردی کو کچھ کم نہ کر سکی۔ اس کی محبوبہ، جس کا نام وہ اب بھی لینے سے کتراتا تھا، اس کی یادیں اس کے وجود کا حصہ بن چکی تھیں۔ وہ جب بھی آنکھیں بند کرتا، اس کا چہرہ اس کے سامنے آ جاتا۔ اس کی مسکراہٹ، اس کی آنکھوں کی شرارت، اس کے بالوں کی لٹ جو ہوا میں اڑتی تھی۔ وہ سب کچھ اس کے ذہن میں ایسے نقش تھا جیسے کسی سنگِ مرمر پر تراشا گیا ہو۔

کاش! کاش وہ وقت پلٹ سکتا۔ کاش وہ اسے روک سکتا۔ مگر وقت تو دریا کی طرح بہتا چلا گیا، اور وہ اس کے کنارے پر کھڑا بس دیکھتا رہا۔ اس نے بہت کوشش کی تھی اسے واپس لانے کی۔ اس نے منتیں کیں، التجائیں کیں، دعائیں کیں، مگر سب بے سود۔ وہ اس کے ہاتھ سے ایسے نکل گئی جیسے ریت انگلیوں سے پھسل جاتی ہے۔

"تم کہاں ہو؟" اس نے ایک سرگوشی میں کہا، جس میں درد اور بے بسی کا عالم تھا۔ اس کی آواز رات کی خاموشی میں گم ہو گئی۔ اسے معلوم تھا کہ اس سوال کا کوئی جواب نہیں ملے گا۔ وہ جانتا تھا کہ اب وہ اس کی زندگی میں کبھی نہیں لوٹے گی۔ مگر دل تھا کہ ماننے کو تیار ہی نہ تھا۔ ہر لمحہ، ہر پل، وہ اسی انتظار میں رہتا کہ شاید دروازہ کھلے اور وہ سامنے کھڑی ہو۔

اسے یاد آیا وہ دن جب وہ پہلی بار اسے ملا تھا۔ کالج کی لائبریری میں، کتابوں کے درمیان وہ کسی پری کی طرح نظر آئی تھی۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی کشش تھی، جو اسے اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔ وہ اس سے بات کرنے کی ہمت نہ کر سکا، مگر اس کی نگاہیں اسے ڈھونڈتی رہیں۔ پھر یہ سلسلہ شروع ہوا، ملاقاتوں کا، باتوں کا، مسکراہٹوں کا۔ اور پھر محبت کا۔ ایک ایسی محبت جس نے اس کی زندگی کو رنگوں سے بھر دیا۔

مگر یہ رنگت زیادہ دیر نہ ٹھہر سکی۔ شاید قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اس کی محبوبہ کے دل میں شاید وہ جگہ نہ تھی جو اس نے بنا لی تھی۔ یا شاید وہ کبھی اتنی گہری محبت کر ہی نہ سکی۔ وہ ہمیشہ ایک پراسرار سی رہی، اس کی شخصیت کی گہرائیوں کو وہ کبھی سمجھ نہ سکا۔ وہ ایک خوبصورت خواب کی طرح آئی اور پھر بس خواب بن کر رہ گئی۔

اس نے ایک گہری سانس لی۔ اس کی سینے میں ایک انجانا سا درد اٹھا۔ یہ درد اس کی ناکام محبت کا درد تھا۔ یہ درد اس کی ادھوری خواہشوں کا درد تھا۔ یہ درد اس کی تنہائی کا درد تھا۔ ہاں، تنہائی۔ اب تنہائی اس کی سب سے قریبی دوست بن چکی تھی۔ جب سے وہ گئی تھی، تنہائی نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا تھا۔

وہ کمرے میں واپس آیا۔ اس کی نظریں کمرے میں ہر شے پر ٹھہریں۔ میز پر رکھی تصویر، اس کی اور اس کی، جس میں وہ دونوں ہنس رہے تھے۔ وہ تصویر اب اسے اور بھی زیادہ تکلیف دے رہی تھی۔ اس نے جلدی سے اسے اٹھایا اور دراز میں رکھ دیا۔ وہ اب ان یادوں کو سامنے نہیں لانا چاہتا تھا۔ مگر یادیں تو وہ ہوتی ہیں جو خود کو یاد دلاتی ہیں۔

اس نے اپنا قلم اٹھایا۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ وہ لکھنا چاہتا تھا۔ وہ اس درد کو، اس اداسی کو، اس ناکامی کو الفاظ میں ڈھالنا چاہتا تھا۔ یہی اس کا واحد راستہ تھا۔ اسی راستے پر چل کر وہ شاید خود کو سمجھ سکے، شاید اس درد سے نکل سکے۔

اس نے کاغذ کا ایک ورق لیا اور لکھنا شروع کیا۔ الفاظ جیسے اس کے اندر سے ابل پڑے ہوں۔

"یادوں کا سایہ مجھ پر چھایا ہے، ہر شے میں تیرا عکس نظر آیا ہے۔ دل میں اداسی، لب پر خاموشی، تیری جدائی کا یہ غم ہے، کیسا یہ رویا ہے۔"

وہ لکھتا گیا، بے تحاشا لکھتا گیا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، مگر وہ رکا نہیں۔ یہ آنسو اس کی محبت کا اظہار تھے، اس کی ناکامی کا اعتراف تھے۔ یہ الفاظ اس کے دل کی گہرائیوں سے نکل رہے تھے، ان گہرائیوں سے جہاں اس کی محبت زندہ تھی، مگر ادھوری۔

اسے احساس ہوا کہ شاید اس کی محبت ناکام نہیں تھی۔ شاید یہ محبت کبھی انجام تک پہنچ ہی نہیں سکتی تھی۔ شاید یہ محبت اسی طرح ادھوری رہ کر امر ہو جائے گی۔ وہ اپنی محبوبہ کو واپس پا نہ سکا، مگر اس نے اپنی محبت کو اپنی شاعری میں زندہ کر دیا۔ اس نے اپنی ناکامی کو اپنی تخلیق کا موضوع بنا لیا۔

یہ ایک نیا سفر تھا۔ ایک ایسا سفر جہاں اسے اپنی ناکامی کو قبول کرنا تھا۔ جہاں اسے اپنی اداسی کو اپنے فن میں ڈھالنا تھا۔ جہاں اسے تنہائی کو اپنا ساتھی بنانا تھا۔ یہ آسان نہیں تھا، مگر اسے یہی کرنا تھا۔

اسے اپنی محبوبہ کی وہ بات یاد آئی جو اس نے جاتے ہوئے کہی تھی۔ "تم بہت حساس ہو، تمہاری یہ حساسیت تمہیں بہت کچھ سکھائے گی۔" تب اسے اس بات کا مطلب سمجھ نہیں آیا تھا۔ مگر آج اسے احساس ہوا کہ شاید یہی وہ سکھ ہے جو اسے ملنے والا تھا۔

اس نے قلم رکھ دیا۔ اس کے ہاتھ اب بھی کانپ رہے تھے، مگر اس کے دل میں ایک نئی امنگ جاگی تھی۔ ایک ایسی امنگ جو اسے آگے بڑھنے کی ترغیب دے رہی تھی۔ وہ اپنی ناکام محبت کو بھلا نہیں سکتا تھا، مگر وہ اسے اپنی شاعری میں امر ضرور کر سکتا تھا۔

رات گہری ہو چکی تھی۔ مگر اس کے دل میں ایک نئی روشنی پیدا ہو چکی تھی۔ یہ روشنی اس کی تخلیقی قوت کی روشنی تھی۔ یہ روشنی اس کی اپنی بنائی ہوئی روشنی تھی۔ وہ اب تنہا نہیں تھا۔ اس کے ساتھ اس کی اداسی تھی، اس کی ناکامی تھی، اور اس کا قلم تھا۔ اور ان سب کے ساتھ وہ ایک نیا سفر شروع کرنے کے لیے تیار تھا۔ ایک ایسا سفر جو اسے اپنی ناکام محبت کو امر کرنے کی طرف لے جائے گا۔

اس نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ تاروں کی چمک اب اسے اداس نہیں کر رہی تھی۔ وہ اب اسے حوصلہ دے رہی تھی۔ جیسے وہ اسے کہہ رہی ہو، "تم اکیلے نہیں ہو۔ تمہاری محبت، تمہاری ناکامی، سب کچھ تمہاری شاعری میں زندہ رہے گا۔"

اس نے پھر سے قلم اٹھایا۔ اس بار اس کے ہاتھ میں ایک عزم تھا۔ اس بار اس کے دل میں ایک مقصد تھا۔ وہ لکھے گا، وہ اپنی ناکام محبت کی کہانی لکھے گا۔ وہ اسے اپنی شاعری کا موضوع بنائے گا، اور اسے ایسا امر کر دے گا کہ آنے والی نسلیں بھی اسے یاد رکھیں۔

یادوں کا سایہ اب بھی اس پر تھا، مگر اب یہ سایہ اسے ڈرا نہیں رہا تھا۔ یہ سایہ اسے اپنی طاقت کا احساس دلا رہا تھا۔ یہ سایہ اسے اس کے فن کی طرف رہنمائی کر رہا تھا۔ اور وہ اس سائے کے ساتھ، اپنی ناکام محبت کے ساتھ، ایک نیا باب لکھنے کے لیے تیار تھا۔ یہ باب اس کی ناکامی کا نہیں، بلکہ اس کی تخلیق کا باب ہوگا۔

✦ ✦ ✦