Chapter 19

حقیقت کا ادراک

شاعر کو آخر کار اس حقیقت کا ادراک ہو جاتا ہے کہ کچھ محبتیں صرف محسوس کی جا سکتی ہیں، انہیں پایا نہیں جا سکتا۔ یہ ادراک اسے سکون دیتا ہے۔

8 min read

محبت کے صحرا میں بھٹکتے بھٹکتے، شاعر تھک ہار کر ایک ایسی جگہ آ پہنچا جہاں دھوپ کی شدت کم تھی اور سایہ بھی۔ یہ ادراک کی ٹھنڈی چھاؤں تھی۔ برسوں کی تلاش، اشکوں کا سمندر، اور راتوں کی تنہائی اب اس کے کندھوں پر بوجھ نہیں لگ رہی تھی، بلکہ ایک قیمتی خزانے کی صورت اختیار کر گئی تھی۔ اس نے وہ سب کچھ سمیٹ لیا تھا جو کبھی حاصل نہیں ہونا تھا، اور اس سمیٹنے کے عمل نے اسے وہ دے دیا تھا جو وہ کبھی ڈھونڈ نہیں سکا تھا۔

اس نے آنکھیں بند کیں اور اپنے اندر جھانکا۔ وہاں اب کوئی طوفان نہیں تھا، کوئی بے چینی نہیں تھی۔ وہ خاموش سمندر کی طرح گہرا اور پرسکون تھا۔ اس کے اندر ایک اداسی ضرور تھی، مگر وہ اداسی اب تکلیف دہ نہیں تھی۔ یہ وہ اداسی تھی جو کسی خوبصورت منظر کے بچھڑ جانے پر محسوس ہوتی ہے، جو کسی یادگار لمس کے ختم ہونے پر رہ جاتی ہے۔ یہ اداسی اب اس کی پہچان بن گئی تھی۔

وہ جانتا تھا کہ وہ اسے کبھی پا نہیں سکے گا۔ یہ وہ حقیقت تھی جو کسی تیز دھار خنجر کی طرح اس کے دل پر لگی تھی، مگر اب وہ خنجر زنگ آلود ہو چکا تھا، اس کا زخم بھر چکا تھا، اور وہ زخم کا نشان اب اس کی خوبصورتی کا حصہ تھا۔ اس نے کبھی اس خوبصورت زخم کو مٹانے کی کوشش نہیں کی، بلکہ اسے سینے سے لگائے رکھا۔

Keep reading "حقیقت کا ادراک"

The full chapter is in the AIBookCraft app — free to read, with your spot saved.

Free on iOS & Android · No signup to read