Chapter 12

وقت کا گزرنا

وقت گزرتا جاتا ہے، مگر محبت کا درد کم نہیں ہوتا۔ شاعر اسے اپنی زندگی کا لازمی حصہ سمجھ کر قبول کر لیتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس درد کو سنبھالنا سیکھتا ہے۔

6 min read

وقت کا گزرنا

وقت، وہ بے رحم مسافر جو پلک جھپکتے ہی صدیوں کو اپنی گرد میں لپیٹ لیتا ہے، اس کی رفتار میں کوئی کمی نہ آئی۔ ہر لمحہ، ہر گھڑی، ننھے قدم اٹھاتی ہوئی، وہ شاعر کی زندگی کے صحرا میں ریت کے ذرات کی مانند بکھرتی چلی گئی۔ لیکن اس صحرا میں، جہاں امید کے نخلستان خشک ہو چکے تھے، اور خواہش کے چشمے سوکھ چکے تھے، ایک عجیب سا سکون در آیا تھا۔ وہ سکون جو اس ناممکن محبت کے درد میں ہی پوشیدہ تھا۔

شاعر کو اب یہ احساس ہونے لگا تھا کہ وقت کا گزرنا محض ایک ظاہری حقیقت نہیں، بلکہ اس کی روح کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے۔ وہ لمحے جو کبھی بے چینی، بے قراری اور جلتے ہوئے سوالات سے بھرے ہوتے تھے، اب ایک گہرے، خاموش قبولیت میں بدل رہے تھے۔ اس نے اپنی محبت کو، جو کبھی ایک چمکتا ہوا ستارہ تھی جو اس کی پہنچ سے بہت دور تھا، اب اپنی ذات کا ایک ایسا حصہ سمجھ لیا تھا جسے بدلنا ناممکن تھا۔

Keep reading "وقت کا گزرنا"

The full chapter is in the AIBookCraft app — free to read, with your spot saved.

Free on iOS & Android · No signup to read