Setting the scene…

Interactive story
ناکام محبت
اس کتاب میں شاعر اپنی ناکام محبت کو واضح طور پر لکھا ہے
Play the first scenes free. No sign-up.
Previously
…وہ اٹھا اور کھڑکی کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا۔ باہر رات گہری ہو چکی تھی۔ مگر اس کے دل میں اب کوئی اندھیرا نہیں تھا۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا، جہاں ستارے چمک رہے تھے۔ وہ ستارے، جو کبھی اس کی محبوبہ کی آنکھوں کی طرح چمکتے تھے۔ مگر اب وہ ستارے اسے اپنی منزل کا راستہ دکھا رہے تھے۔ اس نے مسکراتے ہوئے کہا، "اے تنہائی، تو میری دوست ہے۔ اور میری شاعری میری طاقت ہے۔" اور پھر وہ اپنے کاغذات کی طرف مڑا، جن پر اس نے اپنی ناکام محبت کی روداد لکھی تھی۔ ان الفاظ میں اب صرف درد نہیں تھا۔ ان الفاظ میں اب امید تھی، زندگی تھی، اور ایک لازوال خوبصورتی تھی۔ اس نے ان کاغذات کو سمیٹا، اور انہیں اپنے دل کے قریب رکھ لیا۔ یہ اس کی ناکام محبت کی میراث تھی۔ یہ اس کی زندگی کا سب سے قیمتی خزانہ تھا۔