Setting the scene…

Interactive story
عشق لاحاصل
لا حاصل عشق پر لکھی یہ داستان آپ ایک بار ضرور پڑھیں آپ کو پسند آئے گی
Play the first scenes free. No sign-up.
Previously
…میں اس میں ہی تو جیتا ہوں، اور اسی میں فنا ہو رہا ہوں۔ تو دور ہے، بہت دور، مگر تیری یاد قریب ہے۔ یہ یاد ہی میری زندگی کا سہارا ہے، اور تیرا درد میرا رفیق ہے۔" شاعر نے اپنی نظم ختم کی اور مسکرایا۔ یہ ایک اداس مسکراہٹ تھی، مگر اس میں ایک گہرا اطمینان تھا۔ اس نے اپنی زندگی کا مقصد پا لیا تھا۔ اس نے اپنے درد کو اپنی طاقت بنا لیا تھا۔ اس نے اپنے آنسوؤں کو اپنی شاعری کا رنگ بنا لیا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اس کی زندگی اب اسی درد کے ساتھ جڑی رہے گی، اور وہ اس درد میں ہی اپنی زندگی کا مطلب تلاش کرے گا۔ اس نے اپنی نوٹ بک بند کی اور آسمان کی طرف دیکھا۔ سورج غروب ہو چکا تھا، اور رات کی تاریکی پھیلنے لگی تھی۔ مگر شاعر کے دل میں امید کا ایک چھوٹا سا دیا جل رہا تھا، جو اسی ناممکن محبت کے درد سے روشن تھا۔