Setting the scene…

Interactive story
عشق لاحاصل
لا حاصل عشق پر لکھی یہ داستان آپ ایک بار ضرور پڑھیں آپ کو پسند آئے گی
Play the first scenes free. No sign-up.
Previously
…اب جب بھی وہ دور جائے گی، میں اسے لکھوں گا ہر شب، ہر پہر، اسے اپنی نظموں میں پکاروں گا یہ میری پکار ہے، کائنات کے لیے کہ عشق اگر ناممکن ہو، تو بھی زندہ رہتا ہے" یہ اس کی نظم کا آخری بند تھا۔ یہ اس کی شاعری کے اس نئے دور کا آغاز تھا۔ وہ اب اپنی محبت کے درد سے بھاگنے والا نہیں تھا۔ وہ اس درد کو سینے سے لگائے گا اور اسے اپنی شاعری کا محور بنائے گا۔ وہ اس ناممکن عشق کو، اپنی زندگی کا سب سے خوبصورت حقیقت بنائے گا۔ وہ اٹھا اور کمرے سے باہر نکلا۔ سورج کی روشنی اس کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں ایک نئی چمک تھی۔ وہ اب اکیلا نہیں تھا۔ اس کے ساتھ اس کی شاعری تھی۔ اس کے ساتھ اس کا درد تھا۔ اور اس کے ساتھ اس کی وہ محبت تھی، جو ناممکن ہونے کے باوجود، اس کے دل میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔